Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 134 of 164

وَانْحَرْ،’’اور قربانی کرو‘‘۔

سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مالی عبادات میں زکوٰۃ زیادہ اہم عبادت ہے پھر اس کی بجائے قربانی کا ذکر کیوں کیا گیا؟

اس کے دو جواب ہیں۔

ایک نبی کریم کی نسبت سے۔

اور دوسرا: امت کے حوالے سے۔

پہلا جوا ب یہ ہے مالی عبادات میں اللّٰہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کرنا اس بناء پر خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں ان مشرکوں کی مخالفت ہے جو بتوں کے نام پر جانور قربان کیا کرتے تھے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ مالی عبادات میں زکوٰۃ کسی مستحق کو پوشیدہ طور پر اس طرح دی جاسکتی ہے کہ دینے والے اور لینے والے کے سوا کسی شخص کو علم نہ ہو۔ جبکہ قربانی کرنے کی صورت میں یقیناً آس پڑوس کے لوگوں کو قربانی کا علم ہو جاتا ہے اس لیے یہاں نیت کو خالص اللّٰہ تعالیٰ کے لیے کرنا بیحد ضروری ہے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ }

’’اللّٰہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے‘‘۔ (پ17،حج:37)

 

اسی لیے قرآن مجید کی ایک اور آیت میں بھی نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر ہوا ہے،

{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}

’’تم فرماؤ! بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللّٰہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا‘‘۔(پ8،انعام:162)

امت کے لحاظ سے ایک اور مفہوم یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قربانی سے مراد رب تعالیٰ کی بندگی کرنے میں جان و مال اور وقت کی قربانی دینا نیز صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے خواہشاتِ نفس کو قربان کرناہے۔

اس لیے امت پر لازم ہے کہ وہ نماز کی پابندی کرے او ر اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے روکے جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول کو ناپسند ہیں۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

{وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا}

 ’’اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اس کے رسول کا، وہ بیشک صریح گمراہی بہکا‘‘۔ ( پ22،احزاب:36)

 

خلاصہ یہ کہ اس آیت مبارکہ میں نبی کریم کو ادائے شکر کے لیے اخلاص کے ساتھ نماز اور قربانی کا حکم دیا گیا اور اس طرح آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی کہ نماز ادا کرنے اور قربانی دینے میں اخلاص پیدا کریں۔

جسمانی عبادات ہوں یا مالی، سب کو خالص رب تعالیٰ ہی کی رضا کے لیے انجام دینا چاہیے۔ ریاکاری اور دکھاوے سے عبادات ضائع ہو جاتی ہیں۔ قربانی ایک اہم مالی عبادت ہے اور ہر مالکِ نصاب پر واجب ہے۔

 

حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ:صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ! ان قربانیوں کی وجہ کیا ہے؟

سرکارِ دو عالم نے فرمایا:

یہ تمہارے والد ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔صحابہ نے عرض کی، اس کا کیا اجر ہے؟ فرمایا، ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے کہ آقا کریم نے فرمایا:

قربانی کے دنوں میں اللّٰہ تعالیٰ کو قربانی کرنے سے زیادہ اور کوئی عمل محبوب نہیں۔ وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ پیش ہوگا۔ اللّٰہ تعالیٰ جانور کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی قربانی قبول فرما لیتا ہے لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔

حضرت جابر سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ رحمتِ عالم نے قربانی کے دن دو چتکبرے، خصّی ، سینگ والے مینڈھے ذبح فرمائے۔

Share:
keyboard_arrow_up