اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ:
لفظ شَانِیَٔ کے معنی بغض رکھنے والے دشمن کے ہیں۔ جب کسی شخص کی نرینہ اولاد فوت ہو جاتی تو عرب والے اسے اَبْتَرکہا کرتے تھے۔
کفارِ مکہ حضور ﷺ کو اَبتر کہہ کر طعنہ دیتے تھے کہ جب ان کا انتقال ہو جائے گا تو کوئی ان کا نام لینے والا بھی نہ رہے گا۔
رب تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو نعمتوں کی خوشخبری دی اور کفار کے طعنوں کے جواب میں فرمایا،آپ کا دشمن ہر خیر سے محروم اور بے نام و نشان ہے۔ ان دشمنوں میں سے اکثر تو غزوۂ بدر میں مارے گئے اور ان کی نسل میں سے جو کوئی بچا وہ رسولِ کریم ﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہو گیا اور پھر اس نے اپنے آپ کو ان کافروں کی طرف منسوب کرنا بھی گوارا نہ کیا۔
آج ان کفار کا نام لینے والا کوئی نہیں جبکہ دنیا کے ہر کونے ہر خطے میں محبوبِ خدا ﷺ کا ذکرِ پاک جاری و ساری ہے۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ:
حضور ﷺ کا دشمن خوبیوں اور فضائل سے محروم ہو جاتا ہے ، اس لیے دنیا میں کہیں اُس کا ذکرِ خیر نہیں ہوا کرتا۔ اسکے برعکس حضورﷺ سے سچی محبت رکھنے والا اعلیٰ اوصاف و فضائل کا پیکر بن کر اللّٰہ کا ولی بن جاتا ہے۔
ایسے پاکیزہ نفوس ایک دو نہیں اس قدر ہیں کہ ان کے متعلق علماء نے ضخیم کتب لکھی ہیں۔
مثلاً: حلیۃ الاولیاء، طبقاتُ الکبریٰ، اخبارُ الاخیار، بہجۃ ُالاسرار وغیرہ۔
اللّٰہ عزوجل نے سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا سے رسول کریم ﷺ کی نسل پروان چڑھائی اور انہیں اس قدر برکت دی کہ ساداتِ کرام دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے۔
رب تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو عظمت و ارفع شان اور آپ کے ذکر کو لازوال بلندی عطا فرمائی ہے۔ اربوں مسلمان روزانہ کئی مرتبہ آپ ﷺ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر درود بھیجتے ہیں، اذانوں اور نمازوں میں حضور ﷺ کا نام لیا جاتا ہے اور آپ کے ذکر کا سلسلہ قیامت تک بڑھتا ہی چلا جائے گا۔
ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ ﷺ کا ذکر بلند کرنے والا آپ کا رب فرماتا ہے،
{وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ}
’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا‘‘۔
تفسیر سورۃ الکافرون سورۃ الکافرون مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں چھ آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲)وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ(۳) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ(۴)وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ(۵)لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶)
’’تم فرماؤ، اے کافرو!نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو، اور نہ تم پوجتے ہوجو میں پوجتا ہوں۔ اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں۔ تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین‘‘۔
(کنزالایمان از امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)
لفظی ترجمہ:
قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ
تم فرماؤ اے کافرو
لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ
نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو
وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ
اورنہ تم عبادت کرنے والے(ہو) جو میں پوجتا ہوں
وَ لَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ
اور نہ میں عبادت کرنے والا(ہوں) جو تم نے پوجا
وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ
اور نہ تم عبادت کرنے والے(ہو) جو میں پوجتا ہوں
لَ کُمْ دِیْنُ کُمْ وَ لِ یَ دِیْنِ
لیے تمہارے دین تمہارا اور لیے میرے دین میرا
فضائل ومناقب:
حضورِ اکرم نورِ مجسم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے،
سورۃ کافرون پڑھنے کا ثواب چوتھائی قرآن پاک کے برابر ہے۔

