ایک صحابی نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔
آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
سوتے وقت سورہ کافرون پڑھا کرو کیونکہ یہ سورت شرک سے بَری کرتی ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب تم سفر میں جاؤ تو سب سے زیادہ خوشحال ہو جاؤ اور تمہارا سامان زیادہ ہو جائے۔ میں نے عرض کی، بیشک میں ایسا ہی چاہتا ہوں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم قرآن کریم کے آخر سے پانچ سورتیں الکافرون، النصر، الاخلاص، الفلق، الناس پڑھا کرو اور ہر سورت کو بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم سے شروع کر کے بسم اللّٰہ ہی پر ختم کیا کرو۔
حضرت جبیر کہتے ہیں،
میں مالدار ہونے کے با وجود سفر میں تنگدست ہوجاتا تھا، جب سے میں نے یہ سورتیں پڑھنا شروع کیں، میں خوشحال رہنے لگا۔
حضرت علی فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ رسول معظم ﷺ کو بچھو نے کاٹ لیا تو آپ نے نمک اور پانی منگوایا(اور متاثرہ جگہ پر ڈالا)۔ آپ سورہ کافرون، سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھتے رہے اور اپنا دستِ مبارک پھیرتے رہے۔
ربط ومناسبت:
کافروں نے جب رسول کریم ﷺ کو برا بھلا کہا تو رب تعالیٰ نے اُن کے جواب میں انہیں اَبْتَر فرمایا۔
گویا رب تعالیٰ نے فرمایا:
اے حبیب! اگر کافروں نے تمہارا ذکر غلط الفاظ میں کیا تو میں جواب دوں گا اور جب وہ میرا ذکر غلط انداز میں کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں تو تم جواب دو۔’’
اے کافرو!……‘‘۔ سورۃ الکوثر کے آخر میں فرمایا گیا، بیشک آپ کے دشمن کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس بشارت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے دشمنوں سے مصالحت کی ہرغلط پیشکش کو ٹھکرا دیجیے کیونکہ حق اور باطل کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔
سورۃ الکوثر میں نبی کریم ﷺکو بیشمار خوبیاں اور کثیر نعمتیں عطا فرمانے کی بشارت دی گئی اور پھر اخلاص کے ساتھ رب تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا جبکہ سورۃ الکافرون میں رب تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ باطل پرستوں کے سامنے کھلے لفظوں میں یہ اعلان فرما دیں کہ تم کافر ہو۔ تمہارے باطل معبودوں کی نہ میں نے کبھی عبادت کی ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کروں گا۔
شانِ نزول:
رسول کریم ﷺ نے جب دعوتِ حق دینا شروع کی تو مکہ میں سے بعض لوگوں نے اس دعوتِ حق کو قبول کر لیا۔ جب آہستہ آہستہ دین کی روشنی پھیلنے لگی تو ابتدا میں کفار نے ظلم و ستم اور دھمکیوں کے ذریعے اس دین کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔
قرآن کریم نے کافروں کی اس روش کا ذکر یوں کیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
{وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ}
’’وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑ جائیں‘‘۔ (پ29،قلم:9،)
جب اس میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے لالچ کا راستہ اختیار کیا۔ حضورﷺ کے چچا ابوطالب کو کفار کے ایک وفد نے یہ پیشکش کی کہ آپ اپنے بھتیجے سے کہیں:- اگر اسے مال و دولت کی خواہش ہے تو ہم اس کے قدموں میں سونے چاندی کا ڈھیر لگا دیں گے، اگر اسے حاکم بننے کا شوق ہے تو ہم اسے اپنا سردار تسلیم کرنے پر تیار ہیں، اور اسے خواہش ہو تو ہم اس کی پسند کی جگہ اس کی شادی کرادیں گے لیکن اسے کہیے کہ وہ ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دے۔
جب یہ پیغام بارگاہِ رسالت میں پہنچایا گیا تو آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاندبھی لا کر رکھ دیں تو بھی میں دعوتِ حق دینا نہیں چھوڑ سکتا‘‘۔
راہِ حق سے روکنے کی اس سازش میں ناکامی پر کافروں نے ایک اور مکارانہ چال چلی۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا، آپ کی دعوت و تبلیغ سے قوم میں انتشار پھیل رہا ہے اس لیے ہم باہم اتحاد کی خاطر اس پر صلح کر لیتے ہیں کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پوجا کیا کریں اور ایک سال ہم سب آپ کے خدا کی عبادت کیا کریں گے۔یہ سن کر آقا ومولیٰ ﷺنے فرمایا:

