Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 137 of 164

’’میں اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کروں‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے کہ:

کفار  نے باہمی مصالحت کے لیے یہ تجویزبھی پیش کی کہ آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگا دیجیے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں گے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔

قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ:

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا، ’’تم فرماؤ، اے کافرو!‘‘۔

یہاں وہ مخصوص کافر مخاطب کیے گئے ہیں جن کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اور کفر ہی پر مریں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اس سے سرکارِ دو عالم کی نبوت و رسالت کی صداقت بھی ثابت ہوئی کہ جن کافروں کو آپ نے کافر قرار دیکر فرمایا تھا کہ تم ایمان نہیں لاؤ گے، وہ ایمان نہیں لائے اور کفر ہی پر مرے۔

حضور کو جھوٹ سے شدید نفرت تھی، یہ بات کافر بھی مانتے تھے اسی لیے وہ آپ کو صادق و امین کہا کرتے تھے۔جب یہ سورت نازل ہوئی تو کفار کو معلوم ہو گیا کہ جب بیحد مہربان و شفیق ہونے کے باوجود یہ ہمیں اس طرح کہہ رہے ہیں اور یہ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ واقعی ہم میں یہ عیب موجود ہیں۔

 

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ:

مشرکینِ مکہ با وجود کفر و شرک کے ارتکاب کے یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کوئی انہیں کافر کہے۔ اس لیے ان کی مصالحت کی تجویز کے جواب میں رب تعالیٰ نے یہ حکم دیا، اے محبوب! ’’تم یہ اعلان فرمادو، اے کافرو! ‘‘۔ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے دل میں ان کا کوئی احترام نہیں، وہ کافر ہیں اور تم ان کے کفر سے بیزار ہو۔

یہاں قُلْ اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس سورت کے شانِ نزول کا تقاضا بھی یہی تھا کہ حضور یہ اعلان فرما دیں تاکہ کفر و اسلام کے درمیان مصالحت اور بیچ کی راہ ڈھونڈنے والے مایوس ہو جائیں۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کفارِ مکہ تو مشرک تھے انہیں کافر کیوں فرمایا گیا؟

جواب یہ ہے کہ شرک درحقیقت کفر ہی ہے۔ ایمان وہی معتبر ہے جو خالص توحید کے ساتھ ہو۔

 

ارشادِ ربانی ہے،

{ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ}

’’ہاں خالص اللّٰہ ہی کی بندگی ہے‘‘۔ ( پ23،زمر:3)

اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔

آیت ۲ تا آیت ۵:

پھر ارشاد ہوا:

’’نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو، اور نہ تم پوجتے ہوجو میں پوجتا ہوں۔ اور نہ میں پوجوں گا جو تم  نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں ‘‘۔

ان آیات میں بظاہر مضمون کی تکرار نظر آرہی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ کلمات آیت ۲ اور ۳ میں زمانہ حال کے لیے ہیں جبکہ آیت ۴ اور ۵ میں زمانۂ مستقبل کے لیے۔

 

اس لیے مفہوم یہ ہوگا:

’’میں نہ تو زمانۂ حال میں تمہارے معبودوں کی عبادت کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی عبادت کرتے ہو۔ اور نہ ہی زمانۂ مستقبل میں، مَیں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا اور نہ ہی تم میرے معبود کی عبادت کرو گے‘‘۔

گویا سرکارِ دوعالم  نے دوٹوک الفاظ میں فرما دیا، میں توحید کا علمبردار ہوں۔ میں نے جب اعلانِ نبوت سے قبل کبھی کسی بت کی پوجا نہیں کی اور شرک سے محفوظ رہا تو تم اب مجھ سے یہ توقع کیسے کر سکتے ہو کہ میں شرک سے اپنا دامن داغدار کرنے پر آمادہ ہو جاؤں گا۔ اے کافرو! ایک سال تو بہت طویل عرصہ ہے میں تو ایک لمحہ کے لیے بھی تمہارے جھوٹے خداؤں کی عبادت نہیں کر سکتا۔

اس تکرار کی حکمت مفسرین کرام نے یہ بیان کی ہے کہ:

کفار ہمیشہ کے لیے مایوس ہو جائیں کہ مسلمان ان کے کفر کو ایک لمحہ کے لیے بھی قبول نہیں کریں گے اور کفر و اسلام کے درمیان مداہنت و مصالحت کی باتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔

Share:
keyboard_arrow_up