Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 138 of 164

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ باطل کو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے حق کی ملاوٹ سے کچھ عار نہیں ہوتا جبکہ حق کبھی بھی باطل کی ادنیٰ سی آمیزش گوارا نہیں کرتا، کیونکہ حق میں باطل کی معمولی سی آمیزش سے حق باطل بن جاتا ہے۔

جیسے ایک من دودھ میں اگر ایک قطرہ پیشاب ملا دیا جائے تو وہ سارے کا سارا نجس اور ناپاک ہو جاتا ہے۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے شرکتِ میانۂ حق و باطل نہ کر قبول گویا آقا ومولیٰ نے ارشاد فرما دیا،حق، حق ہے اور باطل باطل ہے، ان دونوں میں کوئی مفاہمت و مصالحت ممکن نہیں۔

 

یہ مضمون اس آیت کریمہ میں بھی آیا ہے۔

{لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ}

’’کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا،پڑے (اگرچہ) برا مانیں مجرم ‘‘۔ (پ9،انفال:8)

 

مسلمانوں کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کے لوگ اپنے جذبات اور اپنی خواہشات کی بناء پرکسی سے محبت اور کسی سے عداوت کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اسلام کے پیروکاروں پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اپنی خواہش کے تحت دوستی یا دشمنی نہ کریں بلکہ ان کی محبت بھی اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ہو نی چاہیے، اور ان کی عداوت بھی رب کریم کی رضا کی خاطر ہو، یہ کامل ایمان کا تقاضا ہے۔

 

نورِ مجسم کا ارشاد ہے،

جس نے اللّٰہ ہی کے لیے محبت کی، اور اللّٰہ ہی کے لیے دشمنی کی، اور کچھ دیا تو اللّٰہ کے لیے، اور کچھ نہ دیا تو اللّٰہ ہی کے لیے، اُس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔

انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ انسان کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔ ہماری فلاح اور نجات اسی میں ہے کہ ہم اپنے مفادات کی خاطر یا اپنی خواہشات کی وجہ سے اپنے دوست یا دشمن کا تعین نہ کریں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ان کا فرمان ہے کہ جو لوگ ایمان و انسانیت کے دشمن ہیں وہ کبھی مسلمانوں کے دوست اور خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔

 

ارشاد ہوا:

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآءَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُم}

’’اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں،اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے‘‘۔ (پ6،مائدہ:51)

 

لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ:

پھر ارشاد ہوا: ’’تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین‘‘۔

یعنی تمہارے لیے تمہارا کفر اور میرے لیے میری توحید اور میرا اخلاص۔ (خزائن العرفان)

اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے دین میں کوئی قدر نہ ماضی میں مشترک تھی، نہ اب ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہو گی۔اگر دین کا معنی ’’جزا ‘‘لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا اور مجھے میرے اعمال کی جزا ملے گی۔

اگر دین سے مراد اعمال ہوں تو مفہوم یہ ہوگا،

اے کافرو! تمہارے اعمال شیطان کی اتباع پر مبنی ہیں جس کا انجام جہنم ہے۔ اور ہمارے اعمال وحی الہٰی کے مطابق ہیں اور ان کی جزا جنت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

Share:
keyboard_arrow_up