علامہ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
یہ آیت ایسے ہی ہے جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ}
’’اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرما دوکہ میرے لیے میر ی کرنی (اعمال )اور تمہارے لیے تمہاری کرنی ( اعمال) تمہیں میرے کام سے علاقہ (تعلق) نہیں اور مجھے تمہارے کام سے تعلق نہیں‘‘۔(پ11،یونس:41)
دوسری آیت میں فرمایا گیا،
{ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ }
’’ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کِیا‘‘۔ (پ25،شوری:15)
اس آیت کی تفسیر میں امام رازی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
بعض لوگوں کا معمول ہے کہ وہ ترکِ معاملات اور ناراضگی کے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں جو جائز نہیں کیونکہ قرآن کا نزول ان چیزوں کے لیے نہیں ہوا،بلکہ ضروری ہے کہ قرآن میں تدبر کر کے اس کے تقاضوں اور احکام پر عمل کیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس سورت میں شرک اور جھوٹے معبودوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ حالات کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہو، باطل کی طرف سے ڈرانے کا معاملہ ہو یا لالچ کا، ایمان والوں کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ حق اور باطل کے درمیان کسی اور راہ کا شکار ہوجائیں اور مصنوعی مصالحت کی آڑ میں اپنے ایمان کی دولت سے دست بردار ہو جائیں۔
جب مسلمان شرک اور باطل نظریات سے پاک ہو کر دینِ حق پر استقامت کا دامن تھامے رکھیں تو پھر اللّٰہ تعالیٰ انہیں فتح و نصرت عطا فرماتا ہے جیسا کہ اگلی سورت میں مذکور ہے۔
تفسیر سورۃ النصر سورۃ النصر مدنی سورت ہے، اس میں تین آیات ہیں۔
حضرت ابن عمر کے قول کے مطابق یہ سورت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے، سورۃ النصر پڑھنے کا ثواب چوتھائی قرآن کریم کے برابر ہے۔ (ترمذی)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱)وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ(۲)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)
’’جب اللّٰہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللّٰہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہیں، تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے ‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَ الْفَتْحُ
جب آئے مدد اللّٰہ (کی) ا ور فتح
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا
اور دیکھ لیں آپ لوگوں (کو) داخل ہوتے ہیں وہ میں دین اللّٰہ (کے) فوج در فوج
فَ سَبِّحْ بِ حَمْدِ رَبِّ کَ وَ اسْتَغْفِرْ ہُ
پس پاکی بیان کیجئے ساتھ تعریف رب (کی) اپنے اور بخشش مانگیے اُس (سے)
اِنَّ ہٗ کَانَ تَوَّابًا
بیشک وہ ہے توبہ قبول کرنے والا
ربط ومناسبت:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ سورۃ النصر نزول کے اعتبار سے قرآن پاک کی آخری سورت ہے یعنی اس کے بعد کوئی مکمل سورت نازل نہیں ہوئی۔
اگر ترتیب وار سورتوں کے مضامین کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوگا کہ پہلے سورۃ الکوثر میں رسول کریم ﷺ کو کثیر نعمتیں اور بھلائیاں ملنے کی خوشخبری دی گئی اور آپ کے دشمنوں کے بے نام و نشان ہونے کا وعدہ سنایا گیا۔
پھر سورۃ الکافرون میں کافروں سے دوٹوک انداز میں گفتگو کرکے ان سے بیزاری ظاہر کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں نہ ہوگا کہ یہ دین کس طرح پھیل سکتا ہے اور رسول کریم ﷺ کے دشمن کس طرح بے نشان ہو سکتے ہیں۔
پھر اس کے بعد سورۃ النصر میں اللّٰہ تعالیٰ کی مدد اور فتح کی نوید سنائی گئی، گویا اسلام کے غلبے اور عرب کی فتح کا مژدہ سنادیا گیا۔

