اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ:
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی سے یہ وعدہ نہیں فرمایاکہ وہ اسے اس کی ظاہری زندگی ہی میں غلبہ عطا فرمائے گا لیکن اپنے حبیب ﷺ سے یہ ارشاد فرمایا:
{کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی}
’’اللّٰہ لکھ چکا کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول ‘‘۔(پ28،مجادلہ:21)
اس سورت میں ارشاد ہوا: ’’جب اللّٰہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے‘‘۔
اس سے واضح ہورہا ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر فتح نہیں مل سکتی۔ اس لیے راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں اور دینِ حق کی تبلیغ و ترویج کا کام کرنے والوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ حکمت و دانائی، محنت و لگن، جدوجہد، وسائل اور اسباب سب چیزیں ضروری ہیں لیکن اس کے باوجود اگر فتح نصیب ہوتی ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہونے سے ہی ہوتی ہے۔
اس حوالے سے یہ آیاتِ قرآنیہ بھی ذہن نشین رہیں،
{وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}
’’اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ،تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (پ4،ال عمران:139)
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ}
’’اے ایمان والو! اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے ، اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا‘‘۔ (پ26،محمد7)
ایک وقت وہ تھا کہ مدینہ منورہ پر ہزاروں کافروں کی فوج حملہ آور ہوئی تھی اور حضور ﷺ کے حکم پر ایک خندق کھود کر مسلمانوں کا دفاع کیا گیا تھا۔
غزوہ خندق کے دو سال بعد صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا جسے قرآن کریم نے فتحِ مبین قرار دیا پھر اس کے دو ہی سال بعد ۸ ھ میں حضور ﷺ دس ہزار صحابہ کرام کے ہمراہ فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ یقیناً یہ رب تعالیٰ کی مدد اور فتح تھی۔
احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ:
اس سورت میں نبی کریم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آجانے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی بعثت کا مقصد پورا ہو گیا ہے، عنقریب لوگ فوج در فوج دین میں داخل ہونے لگیں گے لہٰذا اب آپ تسبیح و استغفار میں مشغول ہو جائیے۔
جب حضور ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے یہ سورت تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام خوش ہوئے کہ اس میں فتحِ مکہ کی خوشخبری ہے۔
مگر حضرت عباس رونے لگے۔ رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ ! اس سورت میں تو آپ کے وصال کی خبر پوشیدہ ہے۔آقا ومولیٰ ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
حضرت عمر مجھے بدری صحابہ کے ہمراہ بٹھایا کرتے تھے۔ بعض حضرات نے اسے محسوس کیا کہ اتنے کم عمر نوجوان کو ہمارے ساتھ کیوں بٹھایا جاتا ہے۔
ایک دن حضرت عمر نے ان اکابر صحابہ سے فرمایا:
اس سورۂ مبارکہ (سورۃ النصر)کا کیا مطلب ہے؟ بعض نے کہا، اس میں ہمیں اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب وہ ہمیں فتح عطا کرے تو ہم اس کی حمد و ثناء کریں اور استغفار کریں۔ بعض بزرگ خاموش رہے۔
پھر حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کی، اس سورت میں حضورﷺ کے وصال کی طرف اشارہ ہے جس سے رب تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو آگاہ فرما دیا۔
حضرت عمر نے فرمایا: میری بھی یہی رائے ہے۔
یہ سن کر تمام حضرات حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی فضیلت کے قائل ہوگئے۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ :
امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: اس سورت میں رب تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تین انعامات دینے کا ذکر فرمایا ہے،آپ کی مدد فرمائی، فتحِ مکہ عطا فرمائی، اور آپ کے دین میں لوگوں کو فوج در فوج داخل فرمایا۔
پھر ارشاد ہوا: پہلی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کی پاکی بیان کیجئے۔
دوسری نعمت کے شکر کے لیے اپنے رب کی حمد کیجئے۔
اور تیسری نعمت کے شکر کے لیے استغفار کیجئے۔

