Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 141 of 164

دنیا کے فاتح جب فتح پاتے ہیں تو جشن مناتے ہیں، رقص و سرود ہوتا ہے، مفتوحین پر ظلم کرتے ہیں لیکن فتح ملنے پر رسولِ معظم کاطریقہ اخلاقِ عظیم کی بہترین مثال ہے۔ وہ طریقہ ہے، رب تعالیٰ کی تسبیح، حمد و ثناء اور دعا و اِستغفار۔

اس طریقہ کی خوبیاں سوچیے اور مانیے کہ دنیا کو اصلاحِ فکر و عمل کے لیے نورِ قرآن کی ضرورت ہے۔

تسبیح کے لغوی معنی ’’کسی کام میں مشغول ہونے‘‘ کے ہیں۔

جیسا کہ ارشاد ہوا:

{اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا}

’’بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں ‘‘۔ (پ29،مزمل:7)

گویا تسبیح سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں مصروف رہنا ہے۔

تسبیح کا دوسرا معنی رب تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

حمد کے معنی ہیں کہ ہر خوبی اور تعریف اپنے درجۂ کمال میں صرف اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اگر حمد کے ساتھ تسبیح کو ملا دیا جائے تو نورٌ علیٰ نور ہے۔

 

حدیث شریف میں ارشاد ہوا:

’’اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح میزان کا نصف جبکہ تحمیدا سے مکمل کر دیتی ہے‘‘۔

یہ بھی ارشاد ہوا:

’’ سبحان اللّٰہ   والحمدللّٰہ     ولا الٰہ الا اللّٰہ      واللّٰہ اکبر،

یہ چار کلمے اللّٰہ تعالیٰ کو بیحد محبوب ہیں‘‘۔

چونکہ نعمت کا حق یہ ہے کہ نعمت عطا فرمانے والے یعنی اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ اور ’’حمد بیان کرنا شکر کی اصل ہے‘‘۔

 

یہ بھی فرمانِ الہٰی ہے،

{ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ}

’’اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا‘‘۔ (پ13،ابراہیم:7)

اس لیے فتح ملنے اور لوگوں کے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے کی عظیم نعمت کا شکر یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی حمد و تسبیح بیان کی جائے۔ پھر اِستغفار کا حکم دیا گیا۔

حدیث میں ہے کہ اس سورت کے نزول کے بعد آقا ومولیٰ حمد و استغفار کے یہ کلمات زیادہ پڑھا کرتے:

سُبْحَانَ اللّٰہ ِوَبِحَمْدِہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔

 

 حضور کا ارشادِ گرامی ہے،

میں دن میں ستر بار اِستغفار کرتا ہوں۔

ایک باریہ بھی ارشاد فرمایا:

میں دن میں سو بار استغفار کرتا ہوں۔

حالانکہ تمام امت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ پھر اس توبہ و اِستغفار کا سبب کیا ہے؟

جواب یہ ہے کہ حضورِ اکرم کا توبہ واِستغفار فرمانا ازراہِ تواضع تھا یا بطور عبادت، یا اس عمل کے پسندیدہ ہونے کی وجہ سے رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اس کا حکم دیا۔

اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو جس قدر نعمتیں عطا فرمائی تھیں آپ اپنی عبادات کو ان کے شکر کے اعتبار سے کم خیال کرتے اس لیے آپ استغفار فرماتے۔ درحقیقت یہ بارگاہِ الہٰی میں ایک کامل بندے کی طرف سے عجز و نیاز کا اظہار ہے۔

 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ:

جب بندہ کسی گناہ پر اِستغفار کرتا ہے تو صحیح احادیث کے مطابق رب تعالیٰ کی رحمت اُس پر ناز کرتی ہے۔

تو جب محبوب کبریاء  اپنی بعثت کا عظیم مقصد پورا کرنے کے بعد اس اعلیٰ ترین نیکی پر اپنے رب کی بارگاہ میں اِستغفار کرتے ہونگے تو رب کریم کی رحمت کو ان پر کس قدر پیار آتا ہوگا!!۔

 

ایک قول یہ ہے کہ:

آپ کو بطور عبادت استغفار کا حکم دیا گیا، اِستغفار سے نیکوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ نیز اس میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ توبہ واِستغفار کرنا امت کے لیے سنت بن جائے۔

 

مفسرین کرام نے آیت

{وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ}

یعنی ’’اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو‘‘ (پ26،محمد:19)

سے استدلال کرتے ہوئے اس اِستغفار کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ آپ اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت مانگیے۔

Share:
keyboard_arrow_up