وقیل استغفر لِاُمَّتِکَ۔
اپنی امت کے لیے استغفار کیجیے۔ ( قرطبی)
اوالمعنی استغفر لِاُمَّتِکَ۔
اس کامعنی یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے لیے مغفرت مانگیے۔
فتحِ مکہ کے دن آقا و مولیٰ ﷺ جب اپنی اونٹنی پر سوار مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کی مبارک گردن احساسِ تشکر سے اس قدر جھکی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک اونٹ کے کوہان سے لگ رہی تھی۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نے حضرت اُمِّ ہانی رضی اللّٰہ عنہا کے گھر جاکر آٹھ رکعت نوافل ادا کیے اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
یہ سورت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی، اس کے ۸۰ دن بعد حضور ﷺ کا وصال ہوگیا۔ اس عرصہ میں حضور ﷺ نے عبادت میں بہت مشقت کی۔
قرآن مجید قیامت تک کے لیے راہبر و راہنما ہے۔ اس سورت کے مخاطب صرف آقا کریم ﷺ ہی نہیں بلکہ حضور ﷺ کے بعد امت کے تمام لوگ ہیں۔ لہٰذا راہِ حق میں کوشش کرنے والوں کو چاہیے کہ حمد و تسبیح اور توبہ و اِستغفار کے ذریعے اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
دین کی تبلیغ و ترویج اور سر بلندی کی جد و جہد میں جو کامیابی ملے، اسے اللّٰہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور مددو نصرت سمجھیں، اور اپنی تدبیر و عقل پر ناز نہ کریں نیز اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ اپنی غلطیوں اور خامیوں کی اصلاح کرنا آسان ہو۔
ارشادِ باری ہے،
{ فَاتَّقُوااللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ }
’’تو اللّٰہ سے ڈرو اور اپنے آپس میں میل صلح صفائی رکھو ‘‘۔(پ9،انفال:1)
اقامتِ دین کے حوالے سے تبلیغی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے لغزشیں اور غلطیاں سرزد ہو جایا کرتی ہیں کہ انسان خطا کا پُتلا ہے اور صراطِ مستقیم پر شیطان گھات لگائے ہوئے ہے۔ کامیابی کی صورت میں جذبات اور خواہشات انسان پر غالب آجاتے ہیں اور وہ اپنی عقل و تدبیر پر ناز کرنے لگتا ہے یا آرام و آسائش کی صورت میں رب تعالیٰ سے اس کا تعلق کچھ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
اپنا جائزہ لیتے رہنا اور غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کا اعتراف کر لینا اور پھر فوراً ہی رب کریم سے توبہ و استغفار کرنا نیکوں کا طریقہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں انہی لوگوں نے ترقی و کامیابی حاصل کی جنہوں نے اپنی غلطیوں کو ضد اور انا کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کی۔
قرآن کریم نے انبیاء کرام کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کرنے والے ایک گروہ کا ذکر کیا ہے اور ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’ اللّٰہ والوں‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ مذکور ہے کہ کامل طور پر جہاد کرنے کے باوجود ایسے متقی لوگوں کے ہونٹوں پر یہی دعا رہی،
{وَمَاکَانَ قَوْلَھُمْ اِلّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْن}
’’اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوائے اس دعا کے کہ اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں، اور ہمارے قدم جما دے، اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے‘‘۔ (پ4،ال عمران:147،)
اس سورت میں تصوف و سلوک کی تین منزلیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی منزل تسبیح ،
دوسری حمد
اور تیسری اِستغفار۔
جب بندہ صبح و شام زبان و دل سے ذکر کرتا ہے کہ ’’اللّٰہ ہر عیب سے پاک ہے‘‘، تو اس کے خیالات اور جذبات میں پاکیزگی پیدا ہونے لگتی ہے۔ جب وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بار بار کرتا ہے،
’’سب خوبیاں اللّٰہ کے لیے ہیں‘‘، تو اسکی شخصیت میں خوبیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔
اور جب وہ اِستغفار کرتا ہے تو صفاتِ الٰہی کے جلووں کے سبب اسکے کمالاتِ عبدیت میں ترقی ہوتی ہے۔

