Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 143 of 164

اس سورۂ مبارکہ میں یہی پیغام دیا گیا ہے کہ جو مومن بھی محض اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول کی رضا کی خاطر تن من دھن کے ساتھ دین کا کام کرے گا اور اپنے آپ پر ناز کرنے کی بجائے حمد واِستغفار کا دامن تھامے رہے گا، رب کریم اس کی خطاؤں کو معاف فرما دے گا، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔

تفسیر سورۃ اللھب سورۃ اللھب یا سورۃ المسَد مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں پانچ آیات ہیں۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘

 

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ(۱)مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ(۲)سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ(۳) وَّامْرَاَتُهٗؕ-حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ(۴)فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠(۵)

’’تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ، اور وہ تباہ ہو ہی گیا۔ اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا۔ اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ، اور اس کی جورو (بیوی) لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی، اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا‘‘۔

 

کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ

 

لفظی ترجمہ:

تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ

تباہ ہوجائیں دونوں ہاتھ ابولہب(کے) اور تباہ ہوگیا وہ

مَآ اَغْنٰی عَنْ ہُ مَالُ ہٗ وَ مَا کَسَبَ

نہ کام آیا سے (کے) اُس مال اُس (کا) اور جو کمایا اُس نے

سَ یَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ

عنقریب پہنچے گا وہ آگ (میں) والی شعلوں

وَّ امْرَاَتُ ہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ

اور بیوی اس (کی) اٹھانے والی لکڑیوں کا گٹھا

فِیْ جِیْدِ ھَا حَبْل ٌ مِّنْ مَّسَدٍ

میں گلے اُس (کے) رسی سے(کی) کھجور کی چھال

 

ربط ومناسبت:

اس سے قبل سورۃ النصر میں رب تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کو فتح و نصرت کی خوشخبری سنائی اور پھر اس سورت میں حضور کے دشمنوں کے ہلاک و برباد ہونے کی بشارت دی۔

اس سورت میں اگرچہ ابولہب کی مذمت اور اس کے لیے عذاب کی وعید ہے لیکن درحقیقت یہ نبی کریم کے تمام دشمنوں اور گستاخوں کے لیے ہلاکت و بربادی کی پیش گوئی ہے۔

 

ارشادِ ربانی ہے،

{جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا}

’’حق آیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل کومٹنا ہی تھا‘‘۔

(پ15،بنی اسرائیل:81)

یوں کہا جاسکتا ہے کہ ’’جاءَ الحق‘‘ کی تفسیر سورۃ النصر ہے اور ’’زَھقَ الباطل‘‘ کی تفسیر سورۃ اللھب ہے۔

سورۃ النصر میں بتایا گیا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کرنے والوں کو فتح و نصرت نصیب ہوتی ہے، جبکہ سورۃ اللھب میں بتایا گیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار اور ان کی مخالفت کرنے والوں کا انجام تباہی و بربادی ہے۔

سابقہ سورت میں فتح مکہ کے بعد کا حال بیان ہوا ہے جو اسلام کی فتح و نصرت اور عروج کا دور ہے جبکہ سورۃ اللھب میں دینِ اسلام کی ابتدائی حالت کا ذکر ہے جب اسلام کا نام لینا بھی بڑا جرم سمجھا جاتا تھا اور چند گِنے چُنے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

اس ترتیب میں حکمت یہ ہے کہ فتح و عروج کے وقت بے کسی اور مشکل وقت کو یاد کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا جذبہ مزید قوی ہوجاتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ سورۃ النصر مدینہ منورہ میں آخری دور میں نازل ہوئی جبکہ سورۃ اللھب مکہ مکرمہ میں شروع دور ہی میں نازل ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود ان دونوں سورتوں میں اس قدر گہرا ربط و مناسبت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنی سورتوں کی ترتیب اللّٰہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up