شانِ نزول:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی،
{ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ}
’’اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ‘‘۔(پ19،شعراء:214)
تو رسول کریم ﷺ کوہِ صفا پر چڑھے اور آپ نے قریش کے مختلف خاندانوں کو پکارا۔ سب لوگ جمع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: اگر میں یہ بتاؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟
سب نے کہا، بیشک! کیونکہ آپ سے ہم نے ہمیشہ سچ ہی سنا ہے۔
آپ نے فرمایا: میں تمہیں ڈراتا ہوں کہ اگر تم نے شرک نہ چھوڑا تو تم پر خدا کا عذاب آئے گا۔اس پر آپ کے چچا ابولہب نے کہا، تم تباہ ہو جاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟
اس کی گستاخی کے جواب میں حضور ﷺ تو خاموش رہے مگر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورۃ الکافرون کا آغاز لفظ قُلْ(اے نبی! تم فرماؤ) سے ہوا نیز اس سورت کے بعد والی تینوں سورتوں کے شروع میں لفظ قُلْ موجود ہے، تو اس سورت کے آغاز میں لفظ قُلْ کیوں نہیں ؟
جواب یہ ہے کہ جب کفار نے رب تعالیٰ کی ذات پر طعن کیا تو رب کریم نے فرمایا:
اے رسول! تم کافروں کو یہ جواب دو۔ لیکن جب کافروں نے رسول معظم ﷺ کی ذات پر طعنہ زنی کی تو رب تعالیٰ نے فرمایا: اے محبوب! تم خاموش رہو، تمہارے گستاخ کو میں خود جواب دوں گا،’’تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ‘‘۔
قرآنِ عظیم میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔سورۃ القلم کی ابتدائی سولہ آیات ملاحظہ فرمائیے۔
جب کافر ولیدبن مغیرہ نے حبیبِ کبریاء سیدِ عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ایک جملہ کہا تو رب تعالیٰ نے قسم ارشاد فرماکر اپنے محبوب رسول ﷺ کی عظمت و شان بیان کی اور اُس ملعون کے دس عیب بیان فرمائے۔
تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ:
ابولہب کی اس کنیت کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت چمکدار سرخ رنگت والا تھا۔ چونکہ ’’لہب‘‘ شعلوں کو بھی کہتے ہیں اس لیے قرآن مجید نے اس کے انجام کے مطابق اس کنیت کا ذکر فرمایا ہے۔
عرب روایات کے مطابق ہر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار کی حمایت کیا کرتا لیکن ابولہب کو رشتے میں نبی کریم ﷺ کا سگا چچا ہونے کے باوجود آپ ﷺ سے شدید عداوت تھی۔
جب حضورﷺ کے دوسری صاحبزادے کا وصال ہوا توآپ سے بجائے غم یا افسوس کرنے کے ابولہب خوشی خوشی دوڑتا ہوا کافروں کے پاس گیا اور اُن سے کہا، آج محمد بے نام و نشان ہوگئے۔(معاذ اللّٰہ)
رسول کریم ﷺ اور ابولہب کے گھر ساتھ ساتھ تھے۔ یہ ملعون اور اس کی بیوی حضور ﷺ کے گھر میں گندگی اور غلاظت پھینکا کرتے۔ اُس کی بیوی بھی اسلام دشمنی میں اس قدر آگے تھی کہ رات کو حضور ﷺ کے دروازے پر خاردار جھاڑیاں ڈال دیتی تاکہ آپ کے مبارک قدموں میں کانٹے چبھ جائیں۔
جب حضور ﷺ اور آ پ کے خاندان کو شعبِ ابی طالب میں محصور کردیا گیا اور تین سال تک ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت بھی ابولہب نے کافروں کا ساتھ دیا۔
نبی کریم ﷺ جب مختلف قبائل کو اسلام کی تبلیغ فرماتے تو ابولہب لوگوں کو آپ کی بات سننے سے روکتا اور آپ کو پتھر مارتا۔
ایک صحابی کہتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ آقا و مولیٰ ﷺ لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دے رہے تھے اور ابولہب حضور کو پتھر ماررہا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کے جسم اقدس سے خون بہہ کر ایڑیوں تک پہنچ رہا تھا۔
ابولہب مکہ کے دولتمند ترین لوگوں میں سے تھا۔ اس کے پاس آٹھ سیر سے زیادہ سونے کی اینٹیں تھیں۔
اس سورت میں ایک پیش گوئی یہ کی گئی ہے کہ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے یعنی اس کے ہاتھ اس کے کام نہیں آئے۔

