Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 145 of 164

اگرچہ دیگر کافروں  نے غزوۂ بدر میں حضورکے خلاف تلوار اٹھائی مگر ابولہب اتنا بزدل نکلا کہ اس نے اپنے ایک مقروض کو چار ہزار درہم معاف کرنے کے بدلے میں اپنی جگہ بدر میں لڑنے بھیج دیا۔

چونکہ ابولہب حضورِ اکرم کے خلاف تلوار نہیں اٹھا سکا اس لیے گویا اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے۔ ہاتھ کا لفظ مددگار اور دوست کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اسی لیے قریبی دوست کو دستِ راست بھی کہتے ہیں۔جب اس کے معاون و مددگار دوست مثلاً ابوجہل و غیرہ بدر میں قتل ہوگئے تو گویا اس کے وہ بازو بھی ٹوٹ گئے جو حضور کی مخالفت میں اس کا ساتھ دیتے تھے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

{وَّتَبّ}

’’اور وہ تباہ ہو ہی گیا‘‘۔

عربی زبان کا اسلوب ہے کہ جو بات یقینی طور پر مستقبل میں ہونی ہو، اسے ماضی سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ چنانچہ مکہ کے بڑے سردار اور رئیس کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ کا جو فرمان اس کے رسول کی زبانِ حق ترجمان سے ادا ہوا ،وہ کچھ ہی عرصہ میں لفظ بلفظ پورا ہوا۔

 

مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ:

مفسرین نے لکھا ہے کہ:

غزوۂ بدر کے ساتویں روز اس کے جسم پر طاعون کی طرح کا پھوڑا نکلا جو چند دنوں میں سارے بدن پر پھیل گیا۔اس کے جسم سے بدبودار پیپ بہنے لگی اور گوشت گَلنے لگا۔ مرض لگ جانے کے خوف سے اس کے بیٹے بھی اس کے قریب نہ جاتے۔ یوں تڑپ تڑپ کر ذلت سے مرگیا۔ تین دن تک لاش پڑی رہی۔ پھر جب لوگ اسکے بیٹوں کو طعنے دینے لگے تو انہوں نے مزدوروں سے گڑھا کھدوا کر لکڑیوں سے لاش دھکیل کر اس گڑھے میں ڈلوا دی اور دور ہی سے پتھر مارمار کر اس گڑھے کو بھر دیا۔

کوئی اولاد اپنے باپ کو بیماری یا کسی مصیبت میں یوں نہیں چھوڑ سکتی مگر جب اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب آئے تو گستاخِ رسول کی اولاد کے بھی دل میں اس کے لیے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔

قرآنی پیش گوئی کی حقانیت دیکھیے کہ ابولہب کے ہاتھ یعنی اس کی طاقت اس کے کام نہ آئی اور نہ ہی اس کے دوست۔ بلکہ اُسے ذلت کی موت ملی، اس کی لاش کو سنگسار کیا گیا اور رب تعالیٰ نے یوں بارگاہِ نبوت کے گستاخ کو نشانِ عبرت بنا دیا۔

اعلانِ نبوت سے قبل حضورکی بیٹیاں حضرت اُمِّ کلثوم اور حضرت رقیّہ ابولہب کے دو بیٹوں کے نکاح میں تھیں۔ جب حضور نے نبوت کا اعلان فرمایا تواپنے باپ کے کہنے پر دونوں نے طلاق دیدی۔ اس کے بیٹے عتیبہ نے طلاق دیتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں گستاخی کا ارتکاب بھی کیا۔

اس پر حضور نے فرمایا:

’’الہٰی! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا مسلط فرما‘‘۔ ابولہب اس بیٹے کی حفاظت کا بہت خیال رکھتا تھا۔ تجارتی قافلے کے ساتھ سفر میں ایک رات ملک شام میں پڑاؤ ڈالا تو اسکی حفاظت کے لیے چاروں طرف اونٹ بٹھا دیے گئے۔

غیب بتانے والے آقا کریم کے ارشاد کے مطابق ایک شیر آیا اور سب لوگوں اور اونٹوں کو چھوڑ کر درمیان میں صرف عتیبہ پر حملہ آور ہوا اور اسے ہلاک کر ڈالا، اس طرح اس کی کمائی یعنی عتیبہ برباد ہوگیا۔

اس سورت میں دوسری پیشگوئی یہ کی گئی ہے کہ اس کا مال اور اولاد بھی اس کے کام نہیں آئیں گے سو ایسا ہی ہوا۔ وہ کہا کرتا تھا، ’’جو کچھ میرا بھتیجا کہتا ہے اگر وہ حق ہے تو میں اپنا مال و اولاد فدیہ دیکر اپنی جان بچا لوں گا‘‘۔

جس دولت کی کثرت پر اسے ناز تھا اور جن بیٹوں پر وہ فخر کیا کرتا تھا ، مصیبت کے وقت کوئی اس کے کام نہ آیا۔ بلکہ فکرِ ابولہبی کو مزید شکست اس طرح ہوئی کہ اس کی بیٹی اور بقیہ دو بیٹوں نے اُسی سچے نبی کا کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا جس سے ساری عمر اُس نے دشمنی کی تھی۔

Share:
keyboard_arrow_up