Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 146 of 164

سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ :

ارشاد ہوا: ’’ اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آ گ میں وہ، اور اس کی جورو(بیوی)، لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی‘‘۔

اس سورت میں تیسری پیش گوئی یہ کی گئی ہے کہ ابولہب اور اس کی بیوی جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ یہ پیش گوئی بھی پوری ہوئی کیونکہ ابولہب اور اس کی بیوی دونوں ہی ایمان نہیں لائے ، کفر پر مرے ،اس لیے دونوں جہنمی ہیں۔

جب یہ سورت نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی غصہ میں بھری اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھائے حضور کی تلاش میں نکلی۔ حضورحضرت ابوبکر کے ساتھ کعبہ شریف کے پاس تشریف فرما تھے۔ وہ قریب پہنچی تو اسے حضورنظر ہی نہ آئے۔ کہنے لگی، تمہارا ساتھی کہاں ہے؟مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔

حضرت ابوبکر  نے فرمایا:

’’ربِ کعبہ کی قسم! وہ شعر کہتے ہیں نہ شعر پڑھتے ہیں‘‘۔جب وہ چلی گئی تو حضور نے فرمایا: ایک فرشتہ نے مجھے چھپا لیا تھا اس لیے وہ مجھے نہ دیکھ سکی۔

 

حَمَّالَۃَ الْحَطَب  کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ:

وہ خاردار لکڑیوں کو جنگل سے اُٹھا کر لاتی تاکہ حضورکی راہ میں بچھا سکے۔

 

دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ:

وہ لوگوں کی چغلیاں کرتی تھی تاکہ مخالفت کی آگ کو اور بھڑکائے۔

فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ:  

آخر میں ارشاد ہوا:’’ اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا‘‘۔

مَسَدْ اُس رسی کوکہا جاتا ہے جو کسی بھی چیز سے خوب مضبوط بنائی گئی ہو خواہ کھجور یا ناریل کی چھال ہو یا لوہے کے تار۔

 

حضرت ابن عباس، حضرت عروہ وغیرہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا،

یہاں مراد لوہے کے تاروں سے بنا ہوا مضبوط رسا ہے جو کہ جہنم میں اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ اس سورت میں چوتھی پیش گوئی یہ تھی کہ اس کی بیوی لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے گی، اور اس کے گلے میں رسی کا پھندا ہوگا۔

حرف بحرف ایسا ہی ہوا۔یہ سب پیش گوئیاں صحیح ثابت ہونا درحقیقت حضور کے سچے نبی ہونے کی واضح دلیل ہیں۔

 

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ:

ایک دن وہ خاردار لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے آرہی تھی جو مونج کی رسی میں بندھا ہوا تھا ۔ رسی کا دوسرا سِرا اُس نے گردن کے گرد لپیٹا ہوا تھا کہ گٹھا پیچھے کو گرا اوروہ رسی اس کے گلے کا پھندا بن گئی۔ جنگل میں کوئی نہ تھا جو مدد کرتا۔ اُسی رَسی سے اُس کا گلا گھُٹ گیا اور وہ مر گئی۔

 

اس سورۃ مبارکہ میں مومنوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ:

جو شخص بھی بارگاہِ رسالت میں گستاخی کرے، اُس ملعون کے ساتھ ہرگز نرمی نہ برتیں بلکہ اس سے نفرت کریں اور اسکے عیب بیان کریں تاکہ لوگ اس کے شر سے بچیں۔

نیز یہ سبق بھی ملتا ہے کہ حضور کا گستاخ کتنا بڑا سردار ہی کیوں نہ ہو، ہلاک و برباد ہوجاتا ہے۔ حق کے منکر ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی سازو سامان اور ظاہری اسباب انہیں حق کے مقابلے میں مدد دیں گے اور یہ چیزیں ہی انسان کے مقام و مرتبے کے بلند ہونے کی دلیل ہوتی ہیں لیکن قرآن کریم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اصل محبت کے لائق اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات پاک ہیں۔

ان کے مقابلے میں تمام دنیاوی اسباب، مال، اولاد، مقام و مرتبہ سب ناپائیدار اور بے فائدہ ہیں۔ اصل عزت تو اللّٰہ عَزَّوَجل اور رسول کو ماننے اور راہِ حق اپنانے میں ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up