تفسیر سورۃ الاخلاص سورۃ الاخلاص مکہ میں نازل ہوئی ، اس میں چار آیات ہیں۔ بعض علماء کے بقول یہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔
محقق علماء کا قول ہے کہ:
یہ سورت دوبار نازل ہوئی، ایک بار مکہ میں اور دوسری بار مدینہ منورہ میں۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،
یہ سورت اجر کے لحاظ سے ایک تہائی قرآن پاک کے برابر ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
’’تم فرماؤ! وہ اللّٰہ ہے ، وہ ایک ہے، اللّٰہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ
تم فرماؤ وہ اللّٰہ ایک ہے اللّٰہ بے نیاز
لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ
نہ اُس نے جَنا اور نہ وہ جَنا گیا
وَ لَمْ یَکُنْ لَّ ہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
اور نہیں ہے لیے اس کے برابر کا کوئی
فضائلِ سورت:
ایک صحابی جب بھی جماعت کراتے تو ہر رکعت کی قرأت کے اختتام پر سورۃ الاخلاص تلاوت کرتے۔ان سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا، اس سورت میں رحمن کی صفت بیان ہوئی ہے اس لیے میں اس کی تلاوت کو محبوب رکھتا ہوں۔
یہ بات بارگاہِ نبوی میں بیان کی گئی تو آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
اسے بتادو کہ اللّٰہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔(بخاری، مسلم)
ایک اور حدیث پاک میں ایک انصاری صحابی کا ذکر ہے کہ:
وہ ہر رکعت میں کوئی بھی سورت پڑھنے سے پہلے سورۃ الاخلاص پڑھا کرتے۔دریافت فرمانے پر بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ ! مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا: اس سورت کی محبت نے تجھے جنتی بنا دیا ہے۔
نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا:
کیا تم لوگ اس بات سے عاجز ہو کہ تم ہر رات تہائی قرآن پڑھو؟ صحابہ نے عرض کی، ہم ہر رات میں تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: سورۃ الاخلاص کی تلاوت تہائی قرآن کے برابر ہے۔
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر اپنی غربت اور تنگدستی کا ذکر کیا۔
رسولِ معظم ﷺنے فرمایا:
جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو وہاں جو موجود ہو اسے سلام کرو، اور اگر کوئی موجود نہ ہو تو مجھ پر سلام بھیجو، اور پھر ایک بار سورۃ الاخلاص پڑھو۔ اس شخص نے اس پر عمل کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے اس قدر رزق عطا فرمایا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو بھی اس مال سے فائدہ پہنچانے لگا۔
ربط و مناسبت:
اس سے قبل سورۃ الکافرون میں بار بار اللّٰہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اعلان کیا گیا، اس لیے ضروری تھا کہ اُس سچے معبود کی معرفت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ حجت تمام ہو جائے اور جو پھر بھی نہ مانے، وہ ساقیٔ کوثر ﷺ کے جود و کرم اور رب تعالیٰ کی فتح و نصرت سے محروم ہو کر اَبْتَرْ (بے نام و نشان)ہوجائے اور شعلوں والی آگ میں ابولہب کا ساتھی قرار پائے۔
اس سورت کا سورۃ الکوثر کے ساتھ بھی ایک خاص تعلق نظر آتا ہے وہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے دشمنوں کی خود مذمت فرمائی اور انہیں اَبْتَرْ فرمایا۔
اور اس سورت میں اپنے محبوب رسول ﷺ سے فرمایا:
قُلْ یعنی اے حبیب! تم ان لوگوں کا رَد کرو جو میرا شریک ٹھہراتے ہیں، میرے لیے بیوی اور اولاد مانتے ہیں اور میرے متعلق غلط باتیں کہتے ہیں۔گویا تمہاری شان مَیں بیان کرتا ہوں میری شان تم بیان کرو۔
سورۃ اللھب کے مضمون پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ابولہب اور اس کے ساتھیوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت نصیب نہ ہوئی اور انہوں نے عرفانِ ربانی کی ناطق دلیل یعنی حضور ﷺ کو جھٹلایا جس کی بناء پر وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ اس سورۃ میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہلاکت و بربادی سے بچنا ہے تو رب تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لو اور معرفتِ الہٰی حاصل کرنی ہے تو رسول کریم ﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہو جاؤ۔

