Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 148 of 164

شانِ نزول:

رسولِ معظم نے جب کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا:

قولوا لا الٰہ الا اللّٰہ تفلحوا۔

’’کہہ دو ! اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پا جاؤ گے‘‘۔

 

اس پر مشرکینِ مکہ میں کھلبلی مچ گئی۔ہر طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ کوئی کہتا، اللّٰہ کا نسب کیا ہے؟کوئی کہتا، تمہارا رب کس چیز کا بنا ہوا ہے؟ سونے کا ہے یا چاندی کا، لوہے کاہے یا لکڑی کا۔کوئی کہتا، وہ کیا کھاتاہے کیا پیتا ہے؟ربوبیت اس نے کس سے ورثہ میں پائی اور اس کا کون وارث ہو گا؟

ان کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اپنی ذات و صفات کا بیان فرما کر معرفت کی راہ واضح کی۔

 

حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ:

مشرکوں نے نبی کریم سے کہا، آپ اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔(ترمذی)

نبی کریم کی بعثت سے قبل ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ بت پرست درجنوں خداؤں کی پوجا میں مبتلا تھے۔

خدا کو ایک ماننے کا دعویٰ کرنے کے باوجود عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اوریہو د حضرت عُزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ مجوس آگ کی پوجا کرتے اور صابی ستاروں کی۔

مشرکینِ مکہ فرشتوں کو اللّٰہ کی بیٹیاں کہا کرتے جبکہ بعض خدا تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر تھے۔

ان حالات میں خالق و مالکِ کائنات کی ذات و صفات کا صحیح تصور قائم کرنے اور ہر قسم کی گمراہی کا پردہ چاک کرنے کے لیے یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی۔

اس سورت کو قرآن مجید کے آخر میں رکھنے کی ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ چونکہ اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا مختصر مگر جامع تعارف موجود ہے اور لفظ قُلْ سے نبی کریم کی نبوت و رسالت کی طرف اشارہ ہے اس لیے اسے بنیادی عقائد کے خلاصے کے طور پر قرآن کریم کے آخر میں رکھا گیا۔

 

قُلْ اور عظمتِ مصطفیٰ:

رب تعالیٰ نے لفظ قُلْ سے سورت کا آغاز فرمایا۔اس سے قبل ایسا ہو چکا تھا کہ لوگوں نے کسی نیک بندے میں کوئی خاص کمال دیکھا تو اسے خدا کا شریک بنا لیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کو ’’الکوثر‘‘یعنی بے شمار خوبیاں اور کمالات عطا فرما کر اپنی توحید بیان کرنے کا حکم دیا۔

یعنی اے محبوب رسول ! اے عبدِ کامل! میری توحید اور عظمت تم ارشادفرماؤ۔ کیونکہ میں نے تمہیں وہ طاقت عطا کی ہے کہ تم اشارہ کرتے ہو تو چاند دوٹکڑے ہو جاتاہے، تم چاہو تو ڈوبا ہوا سورج پلٹ آتا ہے، تم حکم دیتے ہو کنکر کلمہ پڑھنے لگتے ہیں، تمہاری مرضی ہو تو تمہاری انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں، تم اپنا ہاتھ بڑھاتے ہو تو جنت میں انگور کا خوشہ پکڑ لیتے ہو، تم زمین پر کھڑے ہو کرحوضِ کوثر کو بھی دیکھتے ہو اور قبروں کے اندرکا حال بھی جانتے ہو، تمہیں اس قدر علومِ غیبیہ عطا کیے ہیں کہ کائنات کی تخلیق سے لے کر جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک کے تمام حالات تمہاری نگاہوں کے سامنے ہیں، تمہیں مَا کَانَ وَمَا یَکوْن (جو ہوچکا اور جو آئندہ ہوگا)کا علم عطا کیا، شاہد و شہید بنایا،رحمۃ للعالمین کا تاج تمہارے سر پر رکھا اور تمہیں سراجِ منیر بنایا، اس قدر کمالات اور عظمتوں کے باوجود جب تم کہو گے، لا الٰہ الا اللّٰہ، ’’اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ تو پھر کسی کو جرأت نہ ہو سکے گی کہ وہ تمہیں خدا کا شریک ٹھہرا ئے یا اپنی خدائی کا دعویٰ کر سکے۔

 

محبت و اطاعت میں اخلاص:

اس سورت کا مشہور نام سورۃ الاخلاص ہے۔اخلاص کے معنی خالص کردینے کے ہیں۔ یہاں اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو ایک مانا جائے، صرف اسی کو عبادت کے لائق جانا جائے، اسی کی بندگی کی جائے اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ہی سے محبت کی جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up