Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 149 of 164

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ}

’’تم فرماؤ! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ(خاندان) اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان، یہ چیزیں اللّٰہ اور اُس کے رسول اور اُس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم (یعنی عذاب) لائے، اور اللّٰہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا‘‘۔ (پ10،توبہ:24)

 

فطری بات ہے کہ آدمی جاننا چاہے گا کہ وہ جس سے محبت کرے اور جس کی بندگی کرے، وہ ہے کون؟ اس کی صفات کیا ہیں؟جب اس کی ذات و صفات کے متعلق بندے کو صحیح علم ہی نہ ہوگا تو وہ اس سے محبت اور اس کی بندگی کیسے کر سکے گا۔

یہ علم حاصل ہونا ہی ایمان کی بنیاد ہے۔ جب بندے کو اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو گی تو اسے اپنے رب سے محبت ہوگی اور جب اسے اپنے رب سے محبت ہو گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رسول کریم  سے محبت کرے گا اور ان کی اطاعت کرنے لگ جائے گا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْر ٌرَّحِیْمٌ o قُلْ اَطِیْعُوااللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ }

’’اے محبوب! تم فرما دو کہ لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔تم فرما دو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا ‘‘۔ (پ3،ال عمران:31-32)

 

یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو نبی کریم کی پیروی کرو۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ رب تعالیٰ کی معرفت و محبت حاصل ہونے کا لازمی نتیجہ رسول کریم سے محبت و اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آقا و مولیٰ کی اطاعت ہی رب تعالیٰ کی بندگی کا سلیقہ اور شعور عطا کرتی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ }

’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللّٰہ کا حکم مانا‘‘۔(پ5،نساء:80)

 

خود آقا و مولیٰ نے سب لوگوں سے زیادہ اپنی محبت رکھنے کو ایمان کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

 

آپ ﷺ  کا فرمانِ عالیشان ہے،

لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔

’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے، اُس کے والدین، اُس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔

 

قرآن کریم میں بعض اعمالِ صالحہ کا سبب اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کو بتایا گیا ہے،

مثلاً:

{وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ }

’’اور اللّٰہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں (کو)‘‘۔(پ2،بقرہ:177)

Share:
keyboard_arrow_up