{وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا}
’’اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پرمسکین اور یتیم اور اسیر کو‘‘۔ (پ29،دھر:8)
خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ سے محبت واطاعت اور اعمالِ صالحہ رب تعالیٰ سے محبت ہی کی نشانیاں ہیں۔
مشرکوں کے عقیدے:
قرآن کریم میں مذکور ہے کہ مشرکین بھی اللّٰہ تعالیٰ کو مانتے تھے لیکن ان کے ذہنوں میں اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق صحیح تصور نہ تھا۔
ارشادِ ربانی ہے،
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ }
’’اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین، اور کام میں لگائے سورج اور چاند،تو ضرور کہیں گے اللّٰہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں ‘‘۔ (پ21،عنکبوت:61)
{قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ}
’’تم فرماؤ! تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے ، یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا، اور کون نکالتا ہے زندہ کومُردے سے، اور (کون) نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ تو اب کہیں گے کہ اللّٰہ۔ تو تم فرماؤ !تو کیوں نہیں (اللّٰہ سے)ڈرتے؟‘‘۔ (پ11،یونس:31)
اللّٰہ تعالیٰ کے متعلق اتنا کچھ جاننے کے با وجود ان کا شرک اور گمراہی یہ تھی کہ وہ اپنے بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے برابر اور شریک ٹھہراتے نیزوہ اپنے بتوں کو بھی معبود سمجھتے تھے۔
قرآن حکیم میں ہے کہ قیامت میں مشرکین اپنے بتوں سے کہیں گے،
{تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}
’’اللّٰہ کی قسم! بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے، جب کہ تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے‘‘۔ (پ19،شعراء:97-98، )
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتنی ساری مخلوق کے لیے ایک خدا کیسے کافی ہو سکتا ہے۔
{اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ}
’’کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کر دیا، بیشک یہ عجیب بات ہے‘‘۔ (پ23،ص:5)
قرآن عظیم نے ان کا یہ قول بھی بیان کیا ہے،
{مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی }
’’ہم تو انہیں(یعنی بتوں کو) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللّٰہ کے پاس نزدیک کر دیں‘‘۔ (پ23،زمر:3، )
وہ بتوں کو صرف سفارشی نہیں سمجھتے بلکہ ان کی عبادت کرتے اور انہیں اللّٰہ تعالیٰ کا ہمسر اور شریک قرار دیتے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا }
’’اللّٰہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اسے ایک حصہ دار ٹھہرایا،تو بولے، یہ اللّٰہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں(یعنی بتوں) کا ‘‘۔ (پ8،انعام:136)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مشرکین اللّٰہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے وہ بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شریک ٹھہراتے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔
ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ:
مشرکین بتوں کو رب کا محض شریک نہ سمجھتے بلکہ رب کے مقابل ٹھہراتے اور ان کی خاطر رب تعالیٰ کو گالیاں دینے میں بھی عار محسوس نہ کرتے۔ اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا،

