{وَ لَا تَسُبُّواالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوااللّٰہَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْم}
’’اور انہیں(یعنی بتوں کو) گالی نہ دو جن کو وہ اللّٰہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ (مشرک) اللّٰہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے‘‘۔ (پ7،انعام:108)
ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ:
قرآن کریم نے مشرکین اور دیگر تمام باطل ادیان کے غلط نظریات کی نفی کی اور جگہ جگہ رب تعالیٰ کی ذات و صفات کا مختلف پہلوؤں سے تعارف کرایا۔
کہیں فرمایا،
{اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَانَوْمٌ ط لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّابِمَاشَآءَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُھُمَا وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ }
’’ﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والاہے، اُسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، وہ کون ہے جو اُس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے، جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے، اور وہ نہیں پاتے اُس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے، اُس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین، اور اُسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی، اور وہی ہے بلند بڑائی والا‘‘۔ (پ3،بقرہ:255 )
کہیں فرمایا،
{اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍسُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْن}
’’اللّٰہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے(زندہ کرے) گا، کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے، پاکی اور برتری ہے اسے اُن کے شرک سے‘‘۔ (پ21،روم:40)
{اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَھْجَۃٍ مَّا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَھَا ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط بَلْ ھُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ}
’’یا وہ جس نے آسمان و زمین بنائے، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا، تو ہم نے اس سے باغ اُگائے رونق والے، تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اُگاتے، کیا اللّٰہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟بلکہ وہ (مشرک) لوگ راہ سے کتراتے ہیں‘‘۔ (پ20،نمل:60،)
{ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ}
’’وہ ہے اللّٰہ تمہارا رب! ہر چیز کا بنانے والا، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، تو کہاں اوندھے جاتے ہو‘‘۔ (پ24،مومن:62)
سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ سے کسی دہریے نے پوچھا، اللّٰہ کے وجود پر کیا دلیل ہے؟
آپ نے فرمایا: اگر میں کہوں کہ ایک درخت خود بخود کٹا، خود بخود اس کی لکڑی کے تختے بنے، پھر خود بخود وہ جُڑ کر کشتی بنی اور وہ سمندر میں چلنے لگی اور پھر بغیر کسی چلانے والے وہ کشتی خودبخود سمندری طوفانوں کے باوجود منزلِ مقصود پر پہنچ گئی۔ وہ بولا،یہ کیسے ممکن ہے کہ خودبخود درخت کٹے، خودبخود تختے بنیں، خودبخود جُڑ کر کشتی بن جائے اور پھر بغیر چلانے والے کے وہ خودبخود منزل پر پہنچ جائے؟
آپ نے فرمایا:
جب ایک چھوٹی سی کشتی بغیر بنانے والے کے بن نہیں سکتی اور بغیر چلانے والے کے چل نہیں سکتی تو پھر اتنی بڑی کائنات خودبخود کیسے بن سکتی ہے اور اس کا نظام کسی چلانے والے کے بغیر کیونکر چل سکتا ہے!!!

