Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 152 of 164

رب تعالیٰ کا ذاتی نام ’’اللّٰہ‘‘ ہے۔ اس لیے جب اللّٰہ کہا جاتا ہے تو اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی تمام صفات آ جاتی ہیں۔

یہ سورت عقیدۂ توحید کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے اس لیے رب تعالیٰ کی معرفت کا سمندر صرف ان چار آیات کے کُوزے میں سمو دیا گیا۔

 

ارشاد ہوا:

قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۔

’’تم فرماؤ!وہ اللّٰہ ہے وہ ایک ہے‘‘۔

 

اَحَدٌ  کے معنی ہیں: یکتا، اکیلا، بے مثل، منفرد۔

اَحَدٌ  اس ایک کو کہتے ہیں جس کی مثل کوئی دوسرا نہ ہو۔

یعنی جو اپنی ذات اور صفات و کمالات میں بالکل منفرد اور یکتا ہو۔

 

اکیلا اور یکتا ہونے کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ:

وہ ہمیشہ سے ہے اس لیے جب کوئی نہیں تھا تو وہ موجود تھا۔ اگر اللّٰہ بھی ہمیشہ سے ہو اور کوئی دوسرا بھی ہمیشہ سے ہو تو یہ ممکن نہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات دونوں میں یکتا اور بے مثل ہے۔

اگر کوئی دوسری ہستی اس کی کسی صفت میں بعینہٖ شریک مان لی جائے تو پھر اس کا یکتا ہونا، ممکن نہ رہے گا جوکہ محال ہے۔

 

اَللّٰہُ الصَّمَدُ:

صمد کے معنی اُس ذات کے ہیں جو کسی کی محتاج نہ ہو اور سب اُس کے محتاج ہوں۔ وہ ہستی سب کی خالق و مالک اور حاجت روا اور مشکل کشا ہو۔ اس کے صمد ہونے کا تقاضا ہے کہ وہی معبود ہو کیونکہ انسان بندگی اسی کی کرتا ہے جس کا وہ ہر لمحہ محتاج ہو، اور جو خود کسی کا محتاج ہو وہ معبود نہیں ہو سکتا۔

قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والوں کے اذہان میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات بندوں کی طرف منسوب فرمائی ہیں۔

مثلاً: انسان کے لیے سمیع و بصیرہونا (پ29، دھر:2)،

زندہ ہونا (پ17،انبیاء:30)،

مومن ہونا (26 الحجرات:10)،

حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے حفیظ و علیم ہونا (پ12،یوسف:55)،

حضرت جبریل علیہ السلام کے لیے بیٹا دینا (پ16،مریم:19) ،

فرشتوں اور مومنوں کے لیے مددگار ہونا (پ28،تحریم:4)،

نبی کریم کے لیے رؤف و رحیم (پ11،توبہ:128)،

شھید بمعنی گواہ (پ2،بقرہ:143)

شاھد بمعنی حاضر و ناظر(پ22،احزاب:45) ،

مددگار (پ 6،المائدہ:55)،

غنی کرنا (پ10،توبہ:74)  بیان ہوا ہے،یہ شرک کیوں نہیں؟

نیز انبیاء و اولیاء سے مدد مانگنا شرعاً کیسا ہے؟

پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ شرک کیا ہے؟شرح عقائد ص ۱۶ پر تحریر ہے،

 

اَلْاِشْرَاکُ ہُوَ اِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِ بِمَعْنَی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِ کَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنَی اسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ۔

یعنی شرک یہ ہے کہ کوئی اُلوہیت میں کسی کو شریک کرے بمعنی وجوبِ وجود میں جیسا کہ مجوسی کرتے ہیں یا بمعنی عبادت کا مستحق ہونے میں جیسا کہ بت پرست کرتے ہیں۔

 

معلوم ہوا کہ:

شرک یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجبُ الوجود(جس کا وجود ہر حال میں ضروری ہو، جو ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے) یاعبادت کا مستحق سمجھا جائے۔

قرآنی تعلیم یہ ہے کہ مذکورہ صفات اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ذاتی ، واجب،ازلی، ابدی، لامحدود و لامتناہی شان کی حامل ہیں جبکہ انبیاء و اولیاء کو یہ صفات اللّٰہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں اس لیے ان کی یہ صفات عطائی، ممکن، حادث، عارضی، محدود و متناہی شان کی حامل ہیں۔ اتنے فرق ہوتے ہوئے شرک کا شبہ کرنا بھی جہالت ہے۔

عموماً محبوبانِ خدا سے مدد مانگنے میں زیادہ اختلاف کیا جاتا ہے۔ضد اور تعصب سے ہٹ کر اس مسئلہ کو قرآن کریم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

استعانت دو قسم کی ہے۔

حقیقی اور مجازی۔

 

حقیقی استعانت یہ ہے کہ:

کسی کو قادر بالذات، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اسکے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے، غیرخدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء علیہم السلام اور اولیاء عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔

Share:
keyboard_arrow_up