Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 153 of 164

مجازی استعانت یہ ہے کہ:

کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کا مظہر، حصولِ فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جان کر اُس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ کا یہ بندہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا اور رضا سے مدد کرسکتا ہے۔یہ قطعاً حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

 

قرآن کریم سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو مددگار بنانے کی دعا کی جو اللّٰہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ (پ16،طہ:36)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام  نے حواریوں سے مدد مانگی۔

(پ3،ال عمران:52،پ 28،صف:۱۴)

ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا۔ (پ2،بقرہ:153)

حضرت ذوالقرنین  نے لوگوں سے مدد مانگی۔ (پ16،کہف:95)

نیک کاموں میں مسلمانوں کو مددگار بننے کا حکم دیا گیا۔ (پ6،مائدہ:2)

ایک مقام پر صالحین اور فرشتوں کا مددگار ہونا یوں بیان فرمایا گیا،

{فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰہٗ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ}

’’تو بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں‘‘۔ (پ28،تحریم:4، )

 

ایک اورجگہ اللّٰہ تعالیٰ، حضور اور صالحین کا مددگار ہونا یوں بیان ہوا،

 

{اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُواالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ}

’’بیشک تمہارے مدد گار تو صرف اللّٰہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللّٰہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں‘‘۔ (پ6،مائدہ:55)

 

ان دلائل سے ثابت ہوا کہ:

حقیقی مددگار و مشکل کشا اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے اور اُس کی عطا سے اُسکے محبوب بندے بھی مددگار ہوتے ہیں۔ پس اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کو اللّٰہ کی مدد کا مظہر جان کر اُن سے مدد مانگنا شرک نہیں۔

یہ عقیدہ ذہن نشین رہے کہ ہر مخلوق اپنی ہر خوبی اور ہر قدرت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ ہی کی محتاج ہے۔

 

مجددِ برحق اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضامحدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی تصنیف ’’برکاتُ الامداد لاِھلِ الاستمداد‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اس استعانت ہی کو دیکھیے کہ جس معنی پر غیر خدا سے شرک ہے یعنی قادر بالذات و مالک مستقل جان کر مدد مانگنا، ان معنوں میں ہی اگر بیماری کے علاج میں طبیب یا دوا سے استمداد کرے یا فقیری کی حاجت میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے بلکہ کسی سے روزمرہ کے معمولی کاموں میں مدد لے جو یقیناً تمام منکرحضرات روزانہ اپنی عورتوں ، بچوں، نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں۔

مثلاً: یہ کہنا کہ فلاں چیز اٹھا دے یا کھانا پکا دے، سب قطعی شرک ہے جب کہ یہ جانا کہ اس کام کے کر دینے پر خود انہیں اپنی ذات سے بے عطائے الہٰی قدرت ہے تو صریح کفر و شرک میں کیا شبہ رہا؟ اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرک نہیں یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کا مظہر، واسطہ، وسیلہ اور سبب جان کر ؛ تو انہی معنوں میں انبیاء کرام و اولیاء عظام سے مدد مانگنا شرک کیونکر ہوگا؟‘‘۔

جب ہم آقا ومولیٰ ﷺ  یا کسی صحابی یا اللّٰہ تعالیٰ کے کسی ولی سے مدد مانگتے ہیں تو ہمارا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں مدد کرنے کی قدرت عطا فرمائی ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اسکی مرضی سے ہماری مدد کریں گے، اگر اللّٰہ تعالیٰ نہ چاہے تو یہ ہماری مدد نہیں کر سکتے۔

پس محبوبانِ خدا کو مددگار و متصرف سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا مددگار و مشکل کشا ہونا بالذات اور مخلوق سے بے نیاز و غنی ہو کر ہے جبکہ انبیاء کرام، اولیاء عظام اور مومنوں کا مددگار و مشکل کشا ہونا اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے ہے اور یہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے محتاج ہیں نیز ان کا تصرف و اِختیار اور انکی طاقت و قدرت اِذنِ الٰہی کے تابع ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up