Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 154 of 164

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ:

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا}

’’اور کافر بولے ، رحمٰن نے اولاد اختیار کی‘‘۔ (پ16،مریم:88)

 

مشرکین فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہود نے حضرت عزیر علیہ السلام کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللّٰہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ ان تمام گمراہ باتوں کا جواب سورۃ الاخلاص میں دیاگیا۔

 

پہلے فرمایا،

اللّٰہ تعالیٰ ایک اور یکتا ہے، اللّٰہ بے نیاز ہے۔

 

مفہوم یہ ہے کہ:

اللّٰہ تعالیٰ واجبُ الوجود ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ چونکہ اولاد باپ کی جنس سے ہوتی ہے اس لیے رب تعالیٰ کی اگر اولاد ہوتی تو وہ بھی واجب اور قدیم ہوتی، اور جو پیدا ہو وہ واجب اور قدیم نہیں ہو سکتا کہ پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پہلے نہیں تھا۔ لہٰذا رب تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ عقلی طور پر دیکھا جائے تو اولاد کی ضرورت کبھی اس لیے ہوتی ہے کہ وہ باپ کی معاون و مددگار ہو اور کبھی اس لیے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد اس کی جانشین ہو۔

اللّٰہ تعالیٰ فنا ہونے سے پاک اور ہمیشہ رہنے والا ہے اس لیے وہ ان میں سے کسی شے کا محتاج نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور پاک رہے گا۔

 

وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ:

اس سورت مبارکہ میں شرک کی تمام اقسام کی نفی کر دی گئی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کا خلاصہ بیان فرما دیا گیا ہے۔

’’کُفُواً‘‘ کا مطلب ہے، مثل،ہمسر، ہم پلہ، برابری کرنے والا، جوڑ کا۔

جب اللّٰہ تعالیٰ یکتا، بے مثل،بے نیاز اور اولاد سے پاک ہے تو اس کے جوڑ کا کوئی کیونکر ہو سکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اُن کافروں کا رَدْ موجود ہے جو بتوں کو رب تعالیٰ کا ہمسر جان کر اُنہیں پوجتے تھے۔

علماء فرماتے ہیں کہ:

شرک کبھی عدد میں ہوتا ہے،

’’ُ اَحَدٌ‘‘ فرما کر اس کی نفی کردی گئی، شرک کبھی منصب و مرتبہ میں کیا جاتا ہے، ’’الصَّمَدُ‘‘ فرما کر اس کا رَدْ فرما دیا گیا، شرک کبھی نسب میں ہوتا ہے،’’ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ‘‘ فرما کر اس کی تردید کر دی گئی، اور شرک کبھی کوئی کام کرنے اور اثر اندازی میں کیا جاتا ہے،’’وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ‘‘ فرما کر اس کی بھی نفی کر دی گئی۔ عقیدۂ توحید کے اس جامع بیان کی وجہ سے اسے سورۃ الاخلاص کہتے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ کے لیےاولاد یا کوئی ہمسر قرار دینا رب تعالیٰ کو گالی دینے کی مثل ہے۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے، بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور یہ اسے مناسب نہ تھا، اوراس نے مجھے گالی دی اور یہ اسے مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کرسکوں گا حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس کا مجھے گالی دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، ’اللّٰہ کی اولاد ہے‘ حالانکہ میں اکیلا ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں، اور میرے جوڑ کا تو کوئی ہے ہی نہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up