Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 155 of 164

تفسیر سورۃ الفلق سورۃ الفلق صحیح قول کے مطابق مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس میں پانچ آیات ہیں۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱)مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲)وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳)وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴)وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)

’’تم فرماؤ! میں اُ س کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے، اُس کی سب مخلوق کے شر سے، اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے، اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں، اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جَلے‘‘۔

کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ

 

لفظی ترجمہ:

قُلْ اَعُوْذُ بِ رَبِّ الْفَلَقِ

کہہ دو میں پناہ لیتا ہوں کی رب صبح (کے)

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

سے برائی جو پیدا کیا اس نے

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ

اور سے برائی اندھیرا کرنے والے (کی) جب چھا جائے وہ

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ

اور سے برائی پھونکیں مارنے والی عورتوں (کی) میں گِرہوں

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ

اور سے برائی حسد کرنے والے (کی) جب وہ حسد کرے

 

ربط ومناسبت:

قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے ہوا جو کہ ایک ایمان افروز دعا ہے۔ اس میں صراطِ مستقیم کی ہدایت طلب کی گئی تھی جس کے جواب میں قرآن کریم کی تمام سورتیں مومن کے لیے مشعلِ راہ بنیں یہاں تک کہ سورۃ اخلاص میں عقیدۂ توحید کا خلاصہ بیان فرما دیا گیا۔ اب ضرورت تھی کہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کے لیے اور توحید و رسالت کے خزانوں کی حفاظت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی طاقتور پناہ طلب کی جائے۔

گویا سورۃ اخلاص میں ایمان کی دولت عطا ہوئی تھی، اب اس دولت کی حفاظت کا طریقہ بتایا جارہا ہے۔ رب تعالیٰ نے کتابِ مبین کے آخر میں یہ دو سورتیں نازل فرمائیں جنہیں معوذتَین یعنی پناہ میں لانے والی سورتیں بھی کہا جاتا ہے۔

 

عام مشاہدہ ہے کہ:

بندہ ہر اُس چیز سے پناہ چاہتا ہے جسے وہ اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے اور ہر اُس ذات کی پناہ لیتا ہے جس کے متعلق اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرنے اور اسے پناہ دینے پر قدرت رکھتاہے۔ اگر باہر کوئی خطرہ ہو تو ہم گھر میں داخل ہوجاتے ہیں، اگر بیماری سے نقصان کا خوف ہو تو اچھے ڈاکٹر سے مدد لیتے ہیں، اسی طرح جس قسم کی مصیبت کا سامنا ہو، اُسی طرح کا سہارا اختیار کرتے ہیں۔

باری تعالیٰ نے جب ابلیس کو اپنی بارگاہ سے مردود قرار دیکر نکال دیا تو اس نے کہا، ’’میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا، پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا، ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ‘‘۔ (پ8،اعراف:17)

 

اولیاء کرام فرماتے ہیں،

جب تمہارا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جو تمہیں دیکھتا ہے اور تم اُسے نہیں دیکھ سکتے تو پھر تمہیں چاہیے کہ تم اُس طاقتور رب تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ جو تمہارے دشمن کو دیکھتا ہے مگر وہ تمہارے رب کو نہیں دیکھ سکتا۔ تمہارا رب تمہیں اس دشمن سے بچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں سب سے پہلے بندہ اپنے محتاج ہونے کا اقرار کرتا ہے کہ’’ اے اللّٰہ! اے میرے رب! میں شیطان کا مقابلہ کرنے اور اُسکے شر سے اپنے آپ کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے میں تیری طاقتور پناہ چاہتا ہوں‘‘۔بندے اور رب کے درمیان یہ تعلق ہی بندگی کی اساس اور اصل ہے۔

سورۃ الاخلاص میں صَمَدْ کے معنی یہی بیان ہوئے کہ وہ ذات جو سب سے بے نیاز ہو اور جس کے سب ہی محتاج ہوں۔ اس سے یہ ربط بھی واضح ہوگیا کہ سابقہ سورت میں شانِ صمدیت بیان ہوئی تھی اب اسے عملی طور پر ظاہر کرنے کے لیے بندے کو حاجت مند ہونے کا سلیقہ سکھایا جا رہا ہے۔ اگر بندہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں خود کو حقیر و محتاج نہ سمجھے تو وہ پناہ کا طلبگار نہ ہوگا اور نہ ہی صرف زبان سے یہ کلمات ادا کرنے پر اُسے پناہ مل سکے گی۔

Share:
keyboard_arrow_up