Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 156 of 164

شانِ نزول:

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ایک ساتھ اُس وقت نازل ہوئیں جب لَبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے حضور سیدِ عالم پر جادو کیا اور حضور کے جسم مبارک اور ظاہری اعضاء پر اس کا اثر ہوا (کمزوری ظاہرہونے لگی) لیکن قلب و عقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا۔

چند روز بعد جبریل علیہ السلام  آئے اور عرض کیا،

ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادو کا سامان فلاں کنوئیں میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا ہے۔ حضور ﷺ   نے حضرت علی کو بھیجا۔ انہوں نے پانی نکالنے کے بعد پتھر اٹھایا تو اس کے نیچے سے جادو کا سامان نکلا جس میں ایک ڈورا بھی تھا جس میں گیارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ وہ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل فرمائیں۔

ان دونوں سورتوں میں گیارہ آیتیں ہیں۔ ہر ایک آیت پڑھنے کے ساتھ ایک گرہ کھولتے رہے، اس طرح سب گرہیں کھل گئیں اور حضور بالکل تندرست ہوگئے۔

احادیث مبارکہ میں ان دو سورتوں کے کثیر فضائل بیان ہوئے ہیں۔

 

حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ:

میں آقا کریم  کے ساتھ سفر میں تھا کہ اچانک تاریکی اور آندھی نے ہمیں گھیر لیا۔ حضور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے پناہ مانگنے لگے اور فرمایا، اے عقبہ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ لو کیونکہ کوئی پناہ لینے والا ان دو سورتوں کی مثل کسی اور چیز سے پناہ نہیں لے سکتا۔ (ابوداؤد)

 

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ:

رب کے معنی ہیں پالنے والا، تربیت و احسان کرنے والا، خالق و مالک۔ 

فَلَق  کے لغوی معنی ’پھاڑنے‘ کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد صبح ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہے۔ رب تعالیٰ کی صفت {فَالِقُ الْاِصْبَاحِ } بھی بیان ہوئی ہے۔

 

ایک تفسیر یہ ہے کہ:

فَلَق سے مراد تمام مخلوق کو وجود میں لانا ہے۔

 

علامہ آلوسی رقم طراز ہیں،

’’فَلَق کا معنی عام ہے، اس میں تمام ممکن موجودات آگئے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے نورِ ایجاد سے ان کا پردۂ عدم چاک کرکے انہیں نکالا ہے‘‘۔

اس صفت کے ساتھ رب تعالیٰ سے پناہ مانگنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ جو رَب رات کے اندھیرے کو دنیا سے دور کر دینے پر قادر ہے وہ میری مشکل و پریشانی دور کرنے پر بھی قادر ہے۔

 

دوسری وجہ یہ ہے کہ:

رات کا اندھیرا اکثر جرائم و شرور کا سبب بنتا ہے اور صبح کا طلوع ہونا ان خطرات کو دور کرتا ہے۔

گویا اس میں اشارہ ہے کہ رب سے پناہ مانگو وہ تمام خطرات کو دور فرمائے گا۔

 

تیسرا سبب یہ ہے کہ:

یہ صالحین کے دعا مانگنے اور اِستغفار کرنے کا وقت ہے اس لیے اس وقت اللّٰہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے پر قبولیت کی قوی امید ہے۔

 

قرآن مجید میں متقین کی ایک صفت یہ بیان ہوئی:

 

{وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْن}

’’وہ سحر کے وقت اِستغفار کرتے ہیں‘‘۔ (پ26،ذاریات:18)

 

چوتھا سبب یہ ہے کہ:

فجر کا وقت رات اور دن کے فرشتوں کے جمع ہونے کا ہے۔

 

ارشاد ہوا:

{اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا}

’’بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں‘‘۔

(پ15،بنی اسرائیل:78)

 

صبح کے وقت سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے رب تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا حکم اس حدیث پاک میں مذکور ہے۔

 

حضرت معاذ بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ:

ہم صبح کی نماز کے وقت حضور کا انتظار کر رہے تھے کہ آقا و مولیٰ تشریف لائے اور فرمایا، سورۃالاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس روزانہ صبح و شام تین تین بار پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز مصیبت و پریشانی سے کفایت کریں گی۔

Share:
keyboard_arrow_up