Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 157 of 164

مُعَوِّذَتَین میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ سورۃ الفلق میں ایک ہی صفت یعنی ’’رب الفلق‘‘ کے ذریعے تین چیزوں یعنی تاریکی،جادو اور حاسد کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

جبکہ سورۃ الناس میں ایک چیز یعنی شیطان کے وسوسوں کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی تین صفات کے ذریعے پناہ مانگی گئی ہے، وہ صفات رب الناس، ملک الناس اور الٰہ الناس ہیں۔

اس میں اشارہ ہے کہ دین و ایمان کی حفاظت جسم و جان کی حفاظت سے مقدم ہے۔ شیطانی وسوسے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ تاریکی، جادو اور حسد جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

 

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ:

اللّٰہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ مخلوق میں وہ چیزیں بھی ہیں جن کے شر اور نقصان دینے والا پہلو ہمارے علم میں ہے اور مخلوق میں وہ چیزیں بھی ہیں جن کے شر اور نقصان کے پہلو ہم نہیں جانتے۔ مخلوق میں مادّی چیزیں بھی شامل ہیں۔

مثلاً :دشمن، بیماری، موذی جانور وغیرہ، اور غیر مادّی یعنی روحانی چیزیں بھی داخل ہیں جو انسان کو رنج و مصیبت اور گناہ و معصیت میں مبتلا کرتی ہیں لہٰذا انکے شر سے بچاؤ کے لیے رب تعالیٰ کی پناہ لینا ضروری ہے۔

ہمیں یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ اس خالق و مالک کی پناہ میں آجائیں جو ہر چیز پر قدرت اور غلبہ رکھتا ہے اور وہی انسان کو ہر مخلوق کے شر اور ضرر سے بچا سکتا ہے۔

جب بندہ اپنے رب کی پناہ میں آجائے تو وہ بندے کے ایمان کو مضبوطی عطا کرتا ہے اور پھر بندہ اگر اسباب کے لحاظ سے کسی بندے سے مدد مانگے یا کسی کے شر سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرے تو اس میں اپنی رحمت شامل فرماتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارا بھروسہ ظاہری اسباب کےبجائےمسببُ الاسباب پر ہونا چاہیے۔

 

حضور نے رب تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنے کی یہ دعا بھی تعلیم فرمائی،

اَللّٰہُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔

’’اے اللّٰہ! جو تو عطا فرمائے وہ کوئی روک نہیں سکتا، اور جو تو روک دے وہ کوئی دے نہیں سکتا، اور تیرے مقابل کسی کی بڑائی اس کو نفع نہیں دے سکتی‘‘۔

 

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی دعائیں اتنی جامع ہیں کہ بندہ ہر مخلوق سے رب کی پناہ میں آجاتا ہے۔ لیکن چار چیزوں کے شر سے خاص طور پر رب تعالیٰ نے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی جن میں سے ایک کا ذکر سورۃ الناس میں آئے گا اور تین کا ذکر اسی سورت میں کیا گیا ہے۔

وہ تین چیزیں ہیں،

اندھیری رات،

جادوگر

اور حاسد۔

 

رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے، اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں، اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جَلے‘‘۔

پہلے رات کے اندھیرے کاذکر ہوا۔رات میں کئی چیزوں کے شر اور خطرات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ چور، ڈاکو، دشمن، جرائم پیشہ، زہریلے جانور، شہوانی جذبات، برے خیالات وغیرہ۔

گویا جب اندھیری رات چھا جائے تو کئی قسم کے ظاہر و پوشیدہ شر بندے پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے رات کے اندھیرے کے شر سے رب تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بندہ اپنے باطن پر غور کرے تو اس تاریکی سے گمراہی کا اندھیرا بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ تاریکی بھی جو گناہوں کی کثرت کی وجہ سے دل پر سیاہ داغ لگنے سے پیدا ہوتی ہے۔ان چیزوں سے بھی رب تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے کہ

رسول کریم نے چاند کی طرف نظر کر کے فرمایا، اے عائشہ! اللّٰہ کی پناہ مانگو اس کے شر سے، یہ اندھیری ڈالنے والا ہے جب ڈوبے۔ (ترمذی)

یعنی قمری ماہ کے آخر میں جب چاند چھپ جائے تو جادو کے وہ عمل جو بیمار کرنے کے لیے ہیں، اسی وقت میں کیے جاتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up