النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ:
گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں سے مراد جادو کرنے والی عورتیں ہیں۔ چونکہ لَبید یہودی کی بیٹیاں اپنے باپ کے ساتھ حضور ﷺ پر جادو کرنے میں شریک ہوئیں اس لیے جادو کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی اور بعض کے نزدیک اس لیے کہ جادوگری کا پیشہ عموماً عورتیں ہی کرتی تھیں۔
بعض کے نزدیک {النَّفّٰثٰت} میں وہ مرد و عورت دونوں داخل ہیں جو جادو کے کلمات پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ جادو کے شر سے پناہ مانگنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اسے عام بیماری سمجھ کر دوا لیتا ہے اور تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔ ڈاکٹری تدابیر اور قیمتی ادویات کسی کام نہیں آتیں اور انسان بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کاعلاج معوذَتَین کے ذریعے رب تعالیٰ کی پناہ لینا ہے۔
حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ:
حسَد سے مراد ہے کسی کی نعمت و خوبی کو دیکھ کر جلنا اور یہ خواہش کرنا کہ یہ نعمت و راحت اُس سے چھِن جائے، خواہ مجھے ملے یا نہیں۔ جبکہ غبطہ یعنی رشک جائز ہے اس کے معنی ہیں، کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ آرزو کرنا کہ یہ نعمت مجھے بھی مل جائے۔ حسدگناہِ کبیرہ اور حرام ہے ۔ یہی سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے اور زمین میں قابیل نے اپنے بھائی سے کیا۔
حسد اگر دل تک محدود رہے تو بھی اس کا ضرر نظرِ بَد کی صورت میں پہنچ سکتا ہے۔
اسی لیے حدیث شریف میں ارشاد ہوا:
’’ نظر کا لگ جانا حق ہے‘‘۔
یعنی بُری نظر کے اثر سے نقصان پہنچتا ہے۔حسد کرنے والا اپنی خباثت اور کمینگی کی وجہ سے ایسی تدبیریں سوچتا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناپاک آرزو پوری ہو سکے۔ انسان نہ تو اپنے حاسدوں کو پہچان سکتا ہے اور نہ ہی ان کی خبیث تدبیروں سے آگاہ ہو سکتا ہے، اور اگر بالفرض آگاہ ہو بھی جائے تو ان کا مناسب تدارک نہیں کرسکتا۔
اس لیے اسے چاہیے کہ رب تعالیٰ کی طاقتور پناہ میں آجائے، کیونکہ وہی زبردست، قوت والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اور پناہ دینے والا ہے۔
تعویذ اور دَم جائز ہیں:
جن احادیث میں تعویذ یا دَم کرنے کی ممانعت آئی ہے اس سے وہ کلمات مراد ہیں جن میں کوئی شرکیہ بات ہو۔ قرآنی آیات ، اسمائے حسنیٰ یا نبی کریم ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلے ہوئے دعائیہ کلمات میں سے کچھ لکھ کر تعویذ بنانا اور ایسے ہی آیات و احادیثِ مبارکہ کے کلمات پڑھ کر کسی پر دَم کرنا بالکل جائز ہے۔
علامہ خازن رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے،
بُرے اثر کو اتارنے کے لیے دَم کرنا اور اسی طرح شرعی مستحب تعویذوں میں دَم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس میں بعض لوگوں کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور بعد والوں میں سے جمہور نے اس کو جائز کہا ہے اور اس پر حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی یہ حدیث بھی دلیل ہے۔
آپ فرماتی ہیں کہ:
رسولُ اللّٰہ ﷺ کے گھر والوں میں سےکوئی بیمارہوتا تو حضورﷺ اس پر معوذات پڑھ کر دَم کرتے تھے۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ روز سونے سے قبل سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں پر دَم فرماتے اور انہیں اپنے جسم ِ اقدس پر پھیر لیتے۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
جب حضور ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ مجھے حکم دیتے کہ میں اسی طرح آپ کو دَم کروں۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسولِ معظم ﷺ خود اپنے آپ کو دَم فرمایا کرتے تھے۔ آپ صحابہ کرام پر بھی دَم فرماتے تھے۔
حضرت طلق بن علی فرماتے ہیں کہ:
ایک بار مجھے بچھو نے ڈنگ مارا۔ تو آقا و مولیٰ ﷺ نے مجھے دَم فرمایا اور دستِ اقدس پھیرا۔

