Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 159 of 164

حضورسیدنا امام حسن و امام حسین کو یہ کلمات پڑھ کر دَم کرتے تھے۔

 

اُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّہَآمَّۃٍ وَمِنْ کَلِّ عَیْنٍ لَّآمَّۃٍ۔

’’میں تم دونوں کے لیے اللّٰہ کے پورے کلمات کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں ہر شیطان کے شر سے، اور ایذا دینے والے جانور اور تکلیف پہنچانے والی آنکھ سے‘‘۔

 

حضرت ابوسعید خُدری سے روایت ہے کہ:

ایک بار آقا و مولیٰ ﷺ  بیمار ہو گئے تو جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے حضور کو دَم کیا۔ (صحیح مسلم)

 

حضرت عوف بن مالک کہتے ہیں کہ:

ہم  نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ! ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے اب آپ کا کیا ارشاد ہے؟

فرمایا، جو الفاظ پڑھ کر تم دَم کرتے تھے وہ مجھے سناؤ، اگر اس میں کوئی شرکیہ بات نہیں تو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں۔

 

حضرت جابر بن عبداللّٰہ سے روایت ہے کہ:

نبی کریم نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا۔ تو حضرت عمرو ابن حزم کے خاندان والے آئے اور عرض کی،ہمارے پاس ایک عمل تھا جس سے ہم سانپ بچھو کے کاٹے ہوئے کو دَم کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے وہ دَم پڑھ کر سنایا۔

نورِ مجسم نے فرمایا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، پس تم میں سے جو اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو ضرور پہنچائے۔

 

اُمُ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

ایک دن حضور میرے پاس تشریف لائے۔ وہاں شفاء نامی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جو پھوڑے کا دَم کیا کرتی تھی۔

نورِ مجسم نے فرمایا: تم یہ دَم حفصہ کو بھی سکھا دو۔

 

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں:

ہم سفر میں تھے کہ ہمارے پاس ایک لڑکی آئی اور اس نے کہا، ہمارے سردار کو بچھو  نے ڈس لیا ہے۔ کیا تم میں کوئی اسے دَم کرسکتا ہے؟ ہم میں سے ایک شخص گیا اور اس نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اسے دَم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔

صحابہ کرام کے زمانے میں بھی گلے میں تعویذ ڈالنے کا رواج تھا۔

 

حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہما سمجھدار بچوں کو یہ دعا یاد کرادیتے اور چھوٹے بچوں کے گلے میں اس کا تعویذ لکھ کر ڈال دیتے۔

اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّآمَّۃِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَشَرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنِ۔ 

’’میں اللّٰہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اُس کے غضب اور عتاب سے، اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے (پناہ چاہتا ہوں)‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up