Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 160 of 164

تفسیر سورۃ الناس سورۃ الناس صحیح قول کے مطابق مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس میں چھ آیات ہیں۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘

 

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱)مَلِكِ النَّاسِۙ(۲)اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳)مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵)مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)

’’تم کہو! میں اُ س کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب ، سب لوگوں کا بادشاہ، سب لوگوں کا خدا، اس کے شر سے جو دل میں بُرے خطرے ڈالے اور دُبک رہے، وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں، جن اور آدمی‘‘۔

 

لفظی ترجمہ:

قُلْ اَعُوْذُ بِ رَبِّ النَّاسِ

تم کہو میں پناہ میں آیا کی رب سب لوگوں (کے)

مَلِکِ النَّاسِ اِلٰہِ النَّاسِ

(جو)بادشاہ سب لوگوں کا معبود، خدا سب لوگوں کا

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ

سے برائی وسوسہ ڈالنے والے دبک جانے والے (کی)

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ

جو وسوسے ڈالتا ہے میں دلوں لوگوں (کے)

مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ

(میں) سے جنوّں اور انسانوں

 

ربط ومناسبت:

یہ قرآن کریم کی آخری سورت ہے۔ سورۃ الفلق کے  آخر میں حاسد کے حسد سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی۔ مسلمان کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے جو اس کو ایمان اور نیکیوں سے محروم کرنے کی کوششوں میں ہمیشہ مصروف رہتا ہے۔ اس لیے اس سورت میں شیطان اور اس کے چیلے جنات اور انسان نما شیاطین کے وسوسوں کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ ہمارا ایمان محفوظ رہے۔

سورۃ الفلق میں دنیاوی آفات و مصائب سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے اور سورۃ الناس میں اُخروی آفات و خطرات کا سبب بننے والی چیزوں یعنی بُرے خیالات سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

سورۃ الفلق میں ان آفات ومصائب سے پناہ مانگی گئی ہے جو جسم وجان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں جبکہ اس سورت میں شیطانی وسوسوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے جو مومن کے دین و ایمان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سورۃ الفلق کے ذریعے انسان ہر قسم کے بیرونی شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے اور سورۃ الناس کے ذریعے ہر قسم کے اندرونی شر سے رب تعالیٰ کی پناہ ملتی ہے۔

 

قُلْ اَعُوْذُ:  

انسان کو اپنے ایمان کی حفاظت اور آقا و مولیٰ کی اطاعت میں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کے لیے شیطان کے شر کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو کہ اس کا ازلی دشمن ہے۔ اس لیے انسان کو کسی ایسی ہستی کے دامنِ کرم میں پناہ لینی ہو گی جو ہر شے پر قادر ہو اور جس کی ہدایت عطا کرنے کی قوت تمام گمراہیوں پر حاوی ہو۔

چنانچہ حکم دیا گیا کہ شیطان کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو اور اپنے ایمان کی دولت کی حفاظت کرو۔ اگر تم اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے اُسکی اور اس کے حبیب کی محبت و اطاعت میں زندگی گزارو  گے تو شیطان تمہیں ہرگز گمراہ نہ کر سکے گا، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں کے متعلق وہ بے بسی سے اعتراف کرچکا ہے کہ ان پر میرا کوئی قابو نہیں۔

 

رب تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے،

{اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ}

’’بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں‘‘۔ (پ14،نحل:99)

 

بِرَبِّ النَّاسِ ۔۔۔۔اِلٰہِ النَّاسِ:

شیاطین کے وسوسوں کے شر سے حفاظت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی ان تین صفات یعنی رب، بادشاہ اور معبود ہونے کا خاص تعلق ہے۔

رب کے معنی پالنے والے، تربیت کرنے والے اور اپنی نگرانی میں ابتدائی حال سے ترقی دیکر انتہائی حال یعنی درجۂ کمال تک پہنچانے والے کے ہیں۔ اسی شانِ ربوبیت کا تقاضا ہے کہ بندوں کو نقصان دہ چیزوں اور گمراہی سے بچایا جائے اور ان کی روحانی نشوونما کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث کیا جائے۔

جب ہم یہ تصور مضبوط کریں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ جو ہم انسانوں کا رب ہے، ہر لمحہ ہماری تربیت فرماتا ہے اور ہمیں شیاطین کے مقابل اسی کی پناہ چاہیے، اس ایمانی شعور کی بناء پر بندے کا تعلق اللّٰہ تعالیٰ سے پختہ ہوجاتا ہے اور وسوسوں کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

پچھلی سورت میں رب کی نسبت فَلَقْ  کی طرف کی گئی تھی اور یہاں انسانوں کی طرف کی گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں جسمانی آفات کا ذکر تھا جو کہ انسانوں کے علاوہ حیوانات کو بھی پہنچتی ہیں جبکہ یہاں شیطانی وسوسوں کی آفات کا ذکر ہے جس کا اصل نشانہ انسان ہیں اس لیے رب کی نسبت الناس کی طرف کی گئی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up