Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 161 of 164

بادشاہ یا مالک وہ ہوتا ہے جو اختیار اور قدرت رکھتا ہے اور اپنی رعایا کی حفاظت کے لیے تدبیر کرتا ہے۔ ہمارا حقیقی بادشاہ وہ ہے جو پوری کائنات کا خالق و مالک اور قادرِ مطلق ہے، اور وہ جس کام کا ارادہ فرمائے وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ ایسا عظیم بادشاہ ہے کہ نہ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ ۔

ایسی بلند شان والا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے چھپ نہیں سکتی۔ ایسے علم و قدرت والے بادشاہ سے بڑھ کر کون شیطانی وسوسوں سے ہماری حفاظت کر سکتا ہے۔

 

اس کے بعد تیسری صفت بیان ہوئی،

اِلٰہِ النَّاس۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ ہی سب لوگوں کا معبود ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔معبود وہی ہوتا ہے جو خالق و رازق ہو، سب سے بلند و برتر اور سب پر غالب ہو۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

{قُلْ مَنْۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ءٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ o سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ}

’’تم فرماؤ! کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو؟ اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اگر تمہیں علم ہو۔ اب کہیں گے، یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ! پھر کس جادو کے فریب میں پڑے ہو؟‘‘۔(پ18،مومنون:88-89)

 

یعنی جب تم اقرار کرتے ہو کہ ہر چیز پر حقیقی قدرت و اختیار اللّٰہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو پھر شیطان کے دھوکے میں کیوں آتے ہو؟

شیطانی وسوسوں کی طرف مائل نہ ہونا کیونکہ بندوں کو اپنے معبود ہی کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اپنے رحمان و رحیم رَب، اپنے حقیقی بادشاہ اور اپنے پیارے معبود کی پناہ میں آ جاؤ جس کا حکم ہر وقت، ہر جگہ، ہر چیز پر نافذ ہے۔

 

الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاس:

{وَسْوَسَہ} سے مراد ہے ایسا خیال جس سے بندہ نیکی سے دور اور گناہ کی طرف مائل ہو۔{وَسْوَاس} دل میں بُرے خیالات ڈالنے والے کو کہتے ہیں اور بہت ہلکی آواز یا شکاری کے چلنے کی مخفی آواز کو بھی کہا جاتا ہے۔ شیطان کو اس لیے ’’وسواس‘‘کہا گیا کیونکہ وہ مخفی کلام کے ذریعے لوگوں کو برائی کی طرف بلاتا ہے اور وہ مخفی کلام ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم انسان کے دل و دماغ میں پہنچ جاتا ہے مگر اس کی آواز محسوس نہیں ہوتی۔

{الْخَنَّاس}کا معنی ہے پیچھے ہٹ جانے والا، دبک جانے والا، چھپ جانے والا۔ شیطان کو’’ خَنّاس‘‘ اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جاتا ہے تاکہ اسے محسوس نہ ہو کہ کوئی اسے بہکا رہا ہے۔

شیطانی وسوسہ انسان کے ذہن پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت و اطاعت سے غافل لوگوں کو تو فوراً ہی گناہ کی طرف مائل کرلیتا ہے جبکہ نیکی کی راہ پر چلنے والوں سے اس کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔

ہر چیز کی کوئی نہ کوئی غذا ہوتی ہے اور وسوسے کی غذا اس کی طرف توجہ دینا ہے۔ جس قدر وسوسے پر توجہ دی جائے اور اس کے متعلق سوچا جائے ، اُسی قدر یہ طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور اگر برائی کا خیال آتے ہی{ اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم} یا {لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم }پڑھ لیا جائے، یا اپنی توجہ کسی اور نیکی کی طرف کر لی جائے تو وسوسہ بھی ذہن سے ہٹ جاتاہے۔

 

جیسے حدیث شریف میں آیا ہے کہ:

غصہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے ۔ اس لیے اگر کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

 

دوسری حدیث پاک میں فرمایا گیا،

جسے غصہ آئے وہ اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے ورنہ لیٹ جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up