ان احادیث میں شیطانی اثر’’غصہ‘‘کے علاج میں ایک حکمت یہی سمجھ میں آتی ہے کہ بندے کو پوری کوشش سے شیطانی وسوسے کی طرف سے توجہ ہٹا لینی چاہیے تاکہ گناہ کے ارادے اور پھر اس پر عمل کی نوبت ہی نہ آسکے۔
شیطانی وسوسوں کا علاج تین چیزیں ہیں۔
اول: شیاطین کے مکر اور حیلوں کو پہچاننا جیسے کسی مکار فریبی کو یہ علم ہو کہ یہ میرے مکر و فریب کو جانتا ہے تو وہ اس سے نا اُمید ہوتا ہے۔
دوم: اس کے وسوسوں کی طرف توجہ نہ کرنا، جیسے کتا بھونکتا ہو تو جس قدر اس کی طرف توجہ کریں وہ اور زیادہ بھونکتا ہے اور اگر توجہ نہ کریں توکچھ دیر میں چپ ہوجاتا ہے۔
سوم: دل میں اور زبان سے اللّٰہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد کرنا ،نیز ناجائز خواہشات اور غصہ سے دل کو پاک رکھنا۔
{خَنَّاس} کے مفہوم سے واضح ہے کہ شیطان کے وسوسوں کے مقابل خدا کے بندوں کی جنگ آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔ کوئی انسان یہ نہ سمجھے کہ میں نمازی یا حاجی ہو گیا ہوں اس لیے اب شیطان مجھے وسوسہ اندازی نہیں کرے گا۔
شیطان اور اس کے چیلے یہ سلسلہ ختم نہیں ہونے دیتے۔ انسان کی یہ آزمائش اور نیکی و بدی کی یہ کشمکش عمر بھر جاری رہتی ہے۔
شیطان کی وسوسہ اندازی کے تین طریقے ہیں ۔
1۔ یا وہ خود دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
2۔ یا اس کے چیلے جن اور انسان وسوسہ ڈالتے ہیں۔
3۔ اور یا پھر انسان کا اپنا نفس وسوسہ ڈالتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ کے مشہور خطبہ میں یہ الفاظ بھی ہیں،
وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا۔
’’ہم اپنے نفوس کی شرارتوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہیں‘‘۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسان کا بہت طاقتور دشمن ہے اور اس کے شر اور فریب سے بچنا بہت مشکل بات ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔
رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،
{اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا}
’’بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے‘‘۔(پ5،نساء:76)
خَنَّاس کے مفہوم سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ وہ وسوسہ ڈال کر فوراً چھپ جاتا ہے کیونکہ وہ حق اور نیکی کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔
وہ تو برائی کا خیال دل میں ڈال کر دیکھتا ہے کہ بندہ اس کی طرف مائل ہوا یا نہیں۔ اگر بندہ برائی کی طرف مائل ہونے لگے تو وہ اس پر مزید برائیاں اور گناہ مسلط کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اس بندے کا دل گناہوں کی کثرت کی وجہ سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ اگر بندہ شیطانی وسوسوں کے مقابل اللّٰہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا قرآنی ہتھیار تھام لے تو شیطان اس سے کوسوں دور بھاگ جاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باِللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَامَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ}
’’اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کونچا دے ( کسی برے کام پر اُکسائے) تو اللّٰہ کی پناہ مانگو، بیشک وہی سنتا جانتا ہے۔ بیشک وہ جو ڈر والے ہیں، جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے، ہوشیار ہو جاتے ہیں، اُسی وقت اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں‘‘۔ (پ9،اعراف:200-201)
حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کا ارشاد ہے کہ:
شیطان آدمی کے دل پر بیٹھا رہتا ہے اور جب یہ اس کو غافل دیکھتا ہے تو وسوسہ ڈالتا ہے۔ اور جب وہ اللّٰہ کا ذکر کرے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنا شیطان کے وسوسوں سے بچنے کا اہم ہتھیار ہے۔اسی لیے رب کریم نے کثرتِ ذکر کا حکم دیا ہے :

