{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًاo وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا}
’’اے ایمان والو! اللّٰہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو‘‘۔ (پ22،احزاب:41-42)
چونکہ شیطان بار بار وسوسے ڈالتا ہے اس لیے اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر بھی باربار ہونا چاہیے۔
قرآن مجید میں عقل مند مومنوں کی تعریف میں فرمایا گیا،
{الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ }
’’جو اللّٰہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے‘‘۔(پ4،ال عمران:191)
شیطان اور اس کے چیلوں کے شر اور مکر سے کسی وقت بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔
ارشادِ ربانی ہے ،
{اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُم}
’’بیشک وہ (شیطان) اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے‘‘۔ (پ8،اعراف:27)
حضرت علی بن حسین رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا:
بیشک شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
لہٰذا نظر نہ آنے والے دشمن کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ ربِ کریم، حقیقی بادشاہ اور اپنے محبوب معبود، اللّٰہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کیا جائے اور اُس قادرِ مطلق سے اُس کی طاقتور پناہ مانگی جائے۔
مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ:
یہ بات پہلے مذکور ہوئی کہ شیطان چھپ کر لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے یعنی وہ خود کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ اب اس سورت مبارکہ کے آخر میں یہ بیان ہوا کہ شیطان کے چیلے اور ایجنٹ صرف جنات ہی میں نہیں ہیں بلکہ بہت سے انسان بھی شیطان کے مشن پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ سورۃ الانعام میں بھی جناتی شیطانوں کے ساتھ انسانی شیطانوں کا ذکر آیا ہے۔
ارشاد ہوا:
{شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ}
’’آدمیوں اور جِنوں میں کے شیطان‘‘۔ (پ8، انعام:112)
اس سورت میں پانچ جگہ ’’نَاس‘‘کا لفظ آیا ہے۔
پہلی جگہ ’’ناس‘‘ سے مراد لڑکے ہیں کیونکہ تربیت و پرورش کا ذکر ان کے حال کے مناسب ہے۔
دوسری جگہ ’’ناس‘‘ سے مراد جوان مرد ہیں کیونکہ بادشاہ کا لفظ قہر و جلال اور نظم و نسق کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ جوانوں کے حال کے شایان ہے۔
تیسری جگہ ’’ناس‘‘ سے مراد بوڑھے ہیں کیونکہ معبود کا لفظ عبادت اور اطاعت پر مبنی ہے اور یہ بوڑھوں کے حال سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
چوتھی جگہ’’ناس‘‘کے لفظ سے صالحین مراد ہیں کیونکہ شیطان اکثر نیک لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور ان کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
پانچویں جگہ ’’ناس‘‘ سے مراد مفسد اور شیاطین ہیں جن کا کام ہی مسلمانوں کو بہکانا اور وسوسے ڈالنا ہے۔
بعض انسانوں کی وسوسہ اندازی کو محسوس کیا جاسکتا ہے مثلاً غیبت کرنے والے، چغل خور، جھوٹے، برے دوست، خوشامدی مشیر، بے حیائی کی چیزیں پھیلانے والے، حرام خور لوگ وغیرہ۔
لیکن ایک طبقہ جسے قرآن کی اصطلاح میں منافقین کہا گیا، وہ عقائد و اعمال کی اصلاح اور دین کے نام پر گمراہی کی طرف لیجاتے ہیں اور خود ساختہ تاویلوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو مشرک اور بدعتی قرار دے کر صراطِ مستقیم سے دور کرنے کی سعیٔ مذموم کرتے ہیں اور فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔

