Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 164 of 164

ارشاد ہوا:

{یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَo وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَاتُفْسِدُوْافِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ o اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ }

’’فریب دیا چاہتے ہیں اللّٰہ اور ایمان والوں کو، اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللّٰہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، بدلہ ان کے جھوٹ کا۔ اور جب ان سے کہا جائے، زمین میں فساد نہ کرو، توکہتے ہیں، ہم تو سنوار نے والے ہیں۔ سنتا ہے ! وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔

(پ1،بقرہ:912)

 

قرآن کریم  نے ان منافقوں کی ایک اہم نشانی یہ بتائی ہے کہ جب اُنہیں قرآن اور رسول کی طرف بلایا جائے تو وہ قرآن سے منہ نہیں موڑتے مگر رسول کریم  سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

گویا رسولِ معظم کی عظمت کو ماننا ان پر گراں ہوتا ہے۔

{وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا}

’’اور جب اُن سے کہا جائے کہ اللّٰہ کی اُتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں‘‘۔ (پ5،نساء:61)

 

یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جو شخص دین کی آڑ میں مسلمانوں کو گمراہی والے عقائد کی طرف بلائے وہ شیطان ہے اور جو کوئی مسلمانوں کو ماڈرن ازم، روشن خیالی یا ثقافت کی آڑ میں بے حیائی اور بڑے اعمال کی طرف مائل کرے وہ بھی شیطان ہے۔ ان تمام شیاطین کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

ذہن نشین رکھیے کہ وہ تمام جائز و مستحب امور جو اللّٰہ تعالیٰ، اس کے محبوب اور صالحین کی محبت و اطاعت کی طرف مائل کرتے ہیں، ان نیک کاموں سے روکنا بھی شیطان ہی کے مشن کا ایک حصہ ہے۔ رب تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے، آمین۔

قرآن کریم کے آغاز میں رب کریم نے صراطِ مستقیم کا پتہ بتایا پھر قرآن مجید اور صاحبِ قرآن کے ذریعے اس کی تفصیل فراہم کی، آخر میں اس صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کے لیے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی صورت میں حفاظت کا سامان عطا فرما دیا

۔ جب بندے نے ایمان و یقین کے ساتھ جان لیا کہ اللّٰہ تعالیٰ میرا رب ہے، میرا مالک، میرا مددگار اور میرا معبود ہے، اور رسول کریم کی محبت و اطاعت ہی نشانِ منزل ہے تو پھر اسے کوئی لالچ، کوئی خوف اور کوئی شر، راہِ حق سے گمراہ نہیں کرسکتا۔

الحمد للّٰہ الذی بنعمتہٖ تتم الصالحات والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدِ الموجودات وعلیٰ اٰلہٖ وجمیع الصحابۃ والصحابیات وعلیٰ من تبعہم من المسلمین والمسلمات برحمتک یا ارحم الراحمین۔

Share:
← Previous
keyboard_arrow_up