Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 98 of 164

قرآن کریم میں متقین کی پہلی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ:

’’وہ بے دیکھے ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمدی سے ہیں، ان سب کو ماننے، اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان ہے۔

یہ بات روز مرہ کے مشا ہدے کا حصہ ہے کہ ایک نا سمجھ بچہ آگ میں بلا جھجک ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اسے علم نہیں کہ آگ جلا تی ہے۔

اگر با لفرض اسے یہ بتا دیا جا ئے اور پھر بھی وہ آ گ میں ہا تھ ڈال دے تو عقلمند یہی کہیں گے کہ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ یہ نا سمجھ ہے، اسے آگ کے جلا دینے کا یقین نہیں تھا ۔یہی عقلمند لوگ خود کبھی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتے کیونکہ انہیں آگ کے جلا دینے کا یقین ہو تا ہے۔

غور فرمائیے،

اس دنیاوی آگ کے جلا دینے پر پختہ یقین ہو نے کے با عث عقلمند اس سے دور رہتے ہیں لیکن جہنم کی آ گ سے بچنے کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ کیا اس کا سبب یہ نہیں کہ ہمارا آخرت پر یقین دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات کے گرد و غبار میں اَٹ کر دھندلا گیا ہے؟

کیا رب تعالیٰ اور اس کے سچے رسول ﷺ  نے یہ نہیں فرما یا کہ منکر وں اور نافرمانوں کو جہنم کی آگ میں جلا یا جا ئے گا؟ اور جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے کئی گنا زیادہ طا قتور ہے۔

اگر دنیا وی آگ کے جلا نے کی طرح ہمیں جہنم کی آگ کے جلا نے پر بھی ایسا یقین ہوجا ئےتو ہم کبھی حرام کا موں کے قریب نہ جائیں اور شیطان کی پیروی کرنے کی بجائے صرف آقا و مولیٰ ہی کی پیروی کر یں ۔

آیت ۶،۷ کی تفسیر:

ارشاد ہوا:

’’بیشک ضرور جہنم کو دیکھو گے، پھر بیشک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو  گے‘‘۔

مفہوم یہ ہے کہ:

اے لوگو ! تمہیں رسولِ معظم ﷺ  نے قرآن کریم اور احادیثِ مقدسہ کے ذریعے علم عطا فرما دیا ہے کہ قیامت میں جس کے نیکیوں کے پَلے ہلکے ہونگے وہ جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

آج تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب کے بتائے ہوئے علم پر یقین کر لو کہ بیشک جہنم کا وجود ہے۔ ورنہ قیامت کے دن تم جہنم کو اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھ لو گے۔

جہنم پر یقین نہ کر کے غفلت میں ساری زندگی گزار کر اگر اُس وقت یقین کی آنکھ سے دیکھو گے بھی تو کیا فائدہ۔ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ تم آج ہی خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ اور جہنم سے بچنے کی تیاری شروع کردو۔

نبی کریم کا ارشاد ہے،

’’ دنیا میں انسان کو یقین اور عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ سے یہ دونوں چیزیں مانگو‘‘۔

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: بیشک آقا ومولیٰ نے سچ فرمایا۔

یقین ہی کی وجہ سے جہنم سے بھاگا جاتا ہے، یقین ہی کی بناء پر جنت مانگی جاتی ہے، یقین ہی سے مصیبت پر صبر ہوتا ہے ،یقین ہی کے باعث فرائض ادا کیے جاتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے عافیت دینے میں خیر کثیر ہے۔

 

اہلِ معرفت فرماتے ہیں:

علمُ الیقین سے محروم رہنا بہت بڑی کم نصیبی ہے اور اس کے حاصل نہ ہونے کی وجہ محبتِ رسول سے غفلت، اتباعِ سنت سے دُوری اور نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مستغرق ہونا ہے۔

اگر علمُ الیقین حاصل ہوجائے تو بندے کو دنیا ہی میں گناہ کے ساتھ جہنم نظر آنے لگتی ہے اور پھر وہ گناہوں سے اس طرح دور ہوجاتا ہے جیسے وہ جہنم سے دور رہنا چاہتا ہے۔

مومن اور کافر دونوں جہنم کو دیکھیں گے مگر ان کے دیکھنے میں بڑا فرق ہوگا۔ پلِ صراط جہنم پر قائم کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن سب کو اس پر سے گزارا جائے گا۔ کافر جہنم میں گر جائیں گے اوریہی ان کا جہنم کو دیکھنا ہے۔

جبکہ مومن پل پر سے سلامتی سے گزر جائیں گے۔مومنوں کا گزرنا ان کے درجات کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔ کئی بجلی کی سی تیزی سے گزریں گے، کئی ہوا کی تیزی سے اور کئی آہستہ آہستہ۔

Share:
keyboard_arrow_up