Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 97 of 164

آیت ۳ تا ۵ کی تفسیر:

ارشاد ہوا:

’’ہاں ہاں جلد جان جاؤ  گے، پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔ ہاں ہاں ! اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے‘‘۔

 

پہلی آیت میں: وعید کا تعلق موت یا قبر سے ہے۔

اور دوسری وعید کا تعلق: قبر سے اُٹھائے جانے کے وقت سے ہے اور دوسری وعید پہلی سے زیادہ سخت ہے۔

یعنی جب قبر میں پہنچو گے تو غفلت والی زندگی کا انجام جان جاؤ گے پھر جب قبر سے نکل کر محشر میں آؤ گے تو تم اپنا انجام ضرور جان جاؤ گے۔

 

ان آیات کا بصیرت افروز مفہوم سمجھنے کے لیے ذرا تصور کیجیے کہ:

لوگ اپنے رب سے غافل، اپنی موت سے بے پرواہ اور اپنی آخرت کو فراموش کر کے دنیا اور اس کا مال و متاع جمع کرنے کی حرص و ہوس میں مدہوش ہیں اور وہ جہنم کے گہرے گڑھے کے اتنے قریب پہنچ چکے ہیں کہ بس موت آئی اور وہ جہنم میں گرے۔

ایسے میں ایک ڈر سنانے والا اور غیب کی خبریں بتانے والا ایک بلند مقام پر کھڑے ہوکر انہیں خطرے سے آگاہ کر رہا ہے، اے لوگو! تم دنیا کی فانی چیزوں اور حقیر لذتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص میں مبتلا ہوکر اپنے خالق و مالک اور رب کو بھول چکے ہو۔

ان چیزوں کے حصول کی ہوس میں باہمی مسابقت اور تفاخر  نے تمہیں اپنے مقصدِ حیات سے غافل کردیا ہے۔ تم مال و دولت اور جاہ و منصب کے حصول کی دُھن میں اپنی موت اور آخرت کو بھول بیٹھے ہو۔

اب وہ لمحہ آنے والا ہے کہ اچانک تمہیں موت آئے گی اور تم یہ سب مال و متاع اور جاہ و منصب چھوڑ کر قبر کے تاریک گڑھے میں چلے جاؤ گے، جہاں تمہارے لیے بستر ہے نہ تکیہ، روشنی ہے نہ اے سی، مال ہے نہ خادم، دوست ہیں نہ رشتہ دار، طاقت ہے نہ اقتدار۔

وہاں صرف ایک چیز تمہارے ساتھ ہو گی اور وہ ہیں تمہارے اعمال۔ اگر روزانہ قبرستان میں مُردے دفن ہوتے دیکھ کر بھی تمہیں اس بات کا یقین نہیں تو ’’ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے‘‘۔

جب تم خود قبر میں پہنچو گے تو یہ حقیقت تم پر آشکارا ہوجائے گی کہ وہاں تمہارے ساتھ سوائے تمہارے نیک و بد اعمال کے کچھ نہیں۔

اور ’’پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے‘‘ جب قبریں کھلیں گی اور تم قبروں سے اٹھائے جاؤ  گے اور تمہارے سینوں میں پوشیدہ راز تک کھول کر سامنے رکھ دیے جائیں گے۔

’’ ہاں ہاں ! اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے‘‘۔

اب بھی وقت ہے دنیا اور مالِ دنیا کی حقیقت کو سمجھو اور اپنے مقصدِ تخلیق پر غور کرو۔

 

آقائے دوجہاں کا فرمان ذیشان ہے،

جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو دو فرشتے پکارتے ہیں، سوائے جِن و اِنس کے تمام مخلوق ان کی یہ بات سنتی ہے۔ ’’اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ! جو تھوڑا ہو اور کافی ہو ،وہ اس سے اچھا ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے‘‘۔ (مشکوٰۃ)

 

یقین کے درجے:

یقین کے لغوی معنی ہیں، کسی چیز کا ایسا علم جس میں کوئی شک نہ ہو۔

یقین کے تین درجے ہیں۔

اول: علمُ الیقین جو انسان کو دلائل سے حاصل ہوتا ہے۔

دوم: عینُ الیقین جو انسان کو مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔

اور سوم: حقُ الیقین جو انسان کو تجربہ سے حاصل ہوتا ہے۔

 

مثلاً:

ہر انسان کو موت کا یقین حاصل ہے، یہ علمُ الیقین ہے۔

جب وہ موت کا فرشتہ خود دیکھ لے گا تو اس کا یقین،عینُ الیقین کہلائے گا اور جب وہ موت کا مزہ چکھ لے گا تو اُس وقت کا یقین، حقُ الیقین کہلائے گا۔

گویا مذکورہ آیت میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کاش! جو بات تم موت کے وقت جان جاؤ گے یا جو بات تمہیں قبر میں جاکر معلوم ہوگی، تم آج ہی اس پر یقین پختہ کر لو اورقرآن و حدیث کے ذریعے اس کا یقینی علم حاصل کرلو ورنہ موت کے وقت کا یقینی علم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up