Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 96 of 164

قبر آخرت کی پہلی منزل ہے اور یہ پہلی منزل ہی ثابت کر رہی ہے کہ انسان جن چیزوں کی خاطر اپنے رب کی بندگی اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت کو فراموش کردیتا ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی قبر یا آخرت میں اُسکے کام نہیں آئے گی۔

 

حضرت مطرف کے والد کہتے ہیں کہ میں آقا کریم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت سورۃ التکاثر تلاوت فرمارہے تھے۔آپ نے فرمایا:

بندہ کہتا ہے، میرا مال، میرا مال۔ اے فرزندِ آدم! تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تو نے کھایا اور فنا کردیا، یا تو نے پہنا اور بوسیدہ کردیا، یا تو نے صدقہ کیا اور اپنے لیے آگے بھیج دیا (تاکہ آخرت میں کام آئے) اس کے علاوہ جو بھی مال ہے، تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر اچانک دنیا سے چلا جائے گا۔

موت آتے ہی انسان یہ جان لیتا ہے کہ اس کا سارا مال ، جائیداد، گاڑیاں، بنگلے سب کچھ اس کے وارثوں کا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز اب اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔

 

ایک دن رسولِ معظم نے فرمایا:

تم میں کون ہے جسے اپنے وارثوں کا مال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ کرام نے عرض کی، یارسول اللّٰہ !ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کیونکہ ہر کسی کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ پیارا ہے۔

 

ارشاد فرمایا:

انسان کا اپنا مال وہ ہے جو وہ آگے بھیج دے (یعنی راہِ خدا میں خرچ کردے) اور وارث کا مال وہ ہے جو وہ چھوڑ جائے۔

’’زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘‘ کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ قبر میں نہیں رہنا کیونکہ زیارت کرنے والا جہاں جاتا ہے وہ جگہ دیکھ کر پھر اپنے اصل مقام کو روانہ ہوجاتا ہے۔

اسی طرح مرنے والوں کا قبروں میں قیام عارضی ہوگا پھر وہ دوبارہ زندہ کرکے اپنے انجام کی جگہ جنت یا دوزخ کو جائیں گے۔

دل کی سختی اور غفلت کا علاج یہ ہے کہ باربار قبروں کی زیارت کی جائے۔ زیارتِ قبور کی ایک اہم حکمت یہ ہے کہ لوگ جب قبرستان جائیں تو سوچیں کہ انسان تمام عمر کس طرح مال کمانے کی دُھن میں مصروف رہتا ہے حتیٰ کہ اسے نماز پڑھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی پھر وہ ہزاروں خواہشیں ادھوری چھوڑ کر اچانک دنیا سے چلا جاتا ہے۔

پھر اس کے مقدر میں کفن کی تین چادریں ہوتی ہیں اور دو گز زمین۔ فقیر  نے اپنی کتاب ’’مزاراتِ اولیاء اور توسل‘‘میں زیارتِ قبور کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ہے، اس میں سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

 

’’حضورِ اکرم کا ایک ارشاد گرامی ہے ،

’’قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں ‘‘۔

قبروں کی زیارت کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی موت یاد آتی ہے جس سے آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور وہ برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کی طرف راغب ہونے لگتا ہے۔ اگر فکرِ آخرت کے ساتھ بار بار قبروں کی زیارت کی جائے تو یقینًا اس کے اثرات انسانی زندگی پر ظاہر ہوتے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ دنیا سے بے رغبت ہو کر راہِ حق پر گامزن ہو جاتا ہے۔

رسولِ معظم نے فرمایا،

’’میں نے زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہیں اور آنکھوں میں آنسو لاتی ہیں‘‘۔

 

نورِ مجسم کا اِرشاد ہے،

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع فرمایا تھا اب انکی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں‘‘۔

اِن احادیثِ مبارکہ سے زیارتِ قبور کی ایک حکمت تو یہ معلوم ہوئی کہ اس سے موت کی یاد اور آخرت کی فکر نصیب ہوتی ہے اور قبولِ حق کے لیے دل نرم ہو جاتے ہیں نیز یہ عبرت ونصیحت حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے ‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up