Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 95 of 164

حقیقت یہ ہے کہ خدا فراموش شخص صرف خدا سے غافل نہیں ہوتے بلکہ وہ خود فراموش بنادیے جاتے ہیں اور وہ اپنے انجام سے غافل ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ اُنہیں موت آ جاتی ہے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

 

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَo وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ}

’’اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا۔ اور اللّٰہ سے ڈرو، بیشک اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ اور اُن جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ انہیں اپنی جانیں یاد نہ رہیں، وہی فاسق ہیں‘‘۔ (پ28،حشر:18-19)

 

ایسے غافل لوگوں کو جب موت سامنے نظر آتی ہے اُس وقت سوچتے ہیں، کاش! میں دنیا میں لوٹا دیا جاؤں تاکہ کچھ نیک کام کر لوں۔ کاش! مجھے تھوڑی سی مہلت مل جاتی تو میں اپنے مال سے کچھ صدقہ دے دیتا۔

 

ارشاد ہوا:

{حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنَ o لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا اِنَّھَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَآئِلُھَا}

’’یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے، اے میرے رب! مجھے واپس پھیر دیجیے، شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں۔ ! ہشت (کلمہ ٔ نفرت) یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے‘‘۔ (پ18،مومنون:99-100)

 

یعنی یہ بیکار بات ہے جو وہ موت کو دیکھ کر کہے گا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اسے دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر یہ وہی کچھ کرے گا جو پہلے کیا کرتا تھا۔

 

ایک اور جگہ رب تعالیٰ کاارشاد ہے،

 

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا لَاتُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ o وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ}

’’اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد، کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے، اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔ اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا‘‘۔ (پ28،منافقون:9-10)

 

حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ:

اس آیت مبارکہ میں مال و متاع اور دیگر نعمتوں کی حرص و ہوس کے مقابل قبروں کا منہ دیکھنے کا ذکر کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ انسان ساری عمر مال و دولت، بینک بیلنس، جائیداد، گاڑیاں، بزنس، اقتدار، منصب وغیرہ جو کچھ بھی طلب کرتا رہتا ہے، جیسے ہی انسان کو موت آتی ہے یہ ساری چیزیں اس کے لیے بیکار و بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہیں۔

اور سب لوگ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے کام آنے والی نہیں اسی لیے ان میں سے کوئی چیز بھی قبر میں انسان کے ساتھ نہیں جاتی۔

 

جانِ کائنات کا فرمانِ عالیشان ہے،

تین چیزیں میت کے ساتھ جاتی ہیں، دو واپس آجاتی ہیں اور ایک ساتھ رہتی ہے۔ میت کے ساتھ اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال جاتے ہیں۔ اس کے گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں ، صرف اس کے اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up