Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 94 of 164

’’تَکَاثُر ‘‘کا لفظ قرآن کریم میں ایک اور جگہ یوں آیا ہے،

 

{اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ}

’’جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل اور کود، اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا‘‘۔ (پ27،حدید:20)

 

اس آیت مبارکہ میں بھی ’’تفاخُر‘‘ یعنی ایک دوسرے پر برتری جتانا اور ’’تکاثُر‘‘ یعنی نعمتوں کے حصول میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا، ان دونوں عیبوں کی مذمت فرمائی گئی۔ خیال رہے کہ یہاں مال و متاع کی جس کثرت کا ذکر ہے، وہ مذموم ہے جبکہ مقصود فسق و فجور ہو یا وہ کثرت اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ   کی محبت و اطاعت سے غفلت کا سبب بن جائے، ورنہ رب تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مال طلب کرنا تو اچھا کام ہے۔

 

آقا ومولیٰ کا ارشاد ہے،

صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ جسے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا فرمایا اور وہ اسے دن رات پڑھتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللّٰہ تعالیٰ نے مال دیا اور دن رات اسے راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے۔

 

اب آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ:

تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل رکھا، یہاں تک کہ تمہیں موت آگئی اور تمہیں قبروں میں دفن کر دیا گیا۔

 

حضورِ اکرم کا ارشاد ہے،

’’کثرت کی خواہش نے تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل کردیا یہاں تک کہ تمہیں موت آگئی‘‘۔

جائز طریقوں سے مال حاصل کرنا اور دنیا کمانا بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں ہے۔

 

حضرت سفیان ثَوری کا ارشاد ہے،

گذشتہ زمانے میں مال جمع کرنا، ناپسندیدہ کام تھا لیکن آج مال مومن کے لیے ڈھال ہے یعنی بہت سے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ مال نہ ہوتا تو حاکم واُمراء ہمیں رومال بنا لیتے یعنی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے۔ پس جسکے پاس کچھ مال ہو،اُسے چاہیے کہ اس کی حفاظت کرے اور بڑھائے کیونکہ اس پُرفتن دور میں اگر کوئی محتاج ہوجائے تو عجب نہیں کہ وہ جو چیز پہلے خرچ کرے وہ اس کا دین ہو لہٰذا حلال مال میں فضول خرچی کی کوئی گنجائش نہیں۔

 

مشکوٰۃ شریف کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ:

بقدرِ ضرورت حلال طریقے سے مال جمع کرنا مذموم نہیں۔ اورجسے اللّٰہ تعالیٰ نے زیادہ مال عطا فرمایا ہو، اُسے چاہیے کہ اس مال کو راہِ خدا میں خرچ کرے نہ یہ کہ عیاشیوں اور برائیوں میں برباد کر کے خدا کی ناراضی اور اس کے عذاب کا مستحق بنے۔اصل بات یہ ہے کہ جو چیز بھی انسان کو اللّٰہ تعالیٰ کی یاد سے اور اُس کے رسول کی اطاعت سے غافل کرے خواہ وہ مال و متاع ہو یا جاہ و منصب، وہ مذمت کے لائق ہے۔

یہاں مال کی مذمت بھی اسی لیے کی جارہی ہے کہ انسان زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کی اطاعت کو فراموش کردیتا ہے، مال حاصل کرنے کی محبت، اللّٰہ عزَّوجل اور رسول کی محبت پر غالب آ جاتی ہے اسی لیے وہ حلال و حرام میں تمیز کھو دیتا ہے، مال و دولت جمع کرنے کی خواہش دیوانگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے، ملک سے غداری، قوم سے دھوکا، فرائض میں بددیانتی، امانت میں خیانت، زندگی کا لازمی جزو بن جاتے ہیں ۔

پھر انہیں خدا یاد رہتا ہے نہ اُس کا رسول، مقصدِ حیات یاد آتا ہے نہ حقوقُ العباد، اور موت یاد آتی ہے نہ قبر کا تاریک گڑھا۔

 

ارشاد ہوا:

’’اَلْھٰکُم‘‘۔

تمہیں غافل رکھا۔

کس چیز سے؟ اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ اس تفصیل میں ایمان و فرائض سے متعلقہ امور بھی ہیں اور چھوٹی نیکیاں بھی۔

Share:
keyboard_arrow_up