Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 93 of 164

 لفظی ترجمہ:

اَلْھٰی کُمُ التَّکَاثُرُ

غافل رکھا تمہیں مال کی زیادہ طلبی (نے)

حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ

یہاں تک کہ منہ دیکھا تم نے قبروں (کا)

کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ

ہرگز نہیں عنقریب جان جاؤ گے تم

ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ

پھر ہرگز نہیں جلد ہی جان جاؤ گے تم

کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ

ہرگز نہیں اگر جانتے تم جاننا یقین (کا)

لَ تَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ

البتہ ضرور دیکھو گے تم جہنم

ثُمَّ لَ تَرَوُنَّ ھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ

پھر بیشک تم ضرور دیکھو گے اُسے آنکھ (سے) یقین (کی)

ثُمَّ لَ تُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ

پھر البتہ ضرور پوچھے جاؤ گے تم اُس دن سے  کے متعلق نعمتوں

 

ربط و مناسبت:

سورۃ القارعہ میں قیامت اور اس کے بعض حالات بیان ہوئے تھے، اس سورت میں انسان کو غفلت سے بیدار ہوکر قیامت کی فکر کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔

پچھلی سورت میں اچھے بُرے اعمال تولے جانے کا ذکر تھا، اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ مال و اولاد اور نعمتوں کی کثرت آزمائش ہے اور تمام نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔

سابقہ سورت میں نیکوں کے لیے من پسند عیش والی زندگی کی خوشخبری دی گئی تھی، اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ پسندیدہ عیش والی زندگی کے لیے اچھے اعمال کرنے میں مال کی کثرت کی ہوس بڑی رکاوٹ ہے۔

پچھلی سورت میں فرمایا گیا کہ برائیوں کا پَلہ بھاری ہونے پر دوزخ میں عذاب ہو گا، اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ دوزخ سے بچنے کی کیا تدبیر ہے؟

اور وہ یہ ہے کہ ضرورت سے زائد مال کی ہوس میں اللّٰہ تعالیٰ اور رسول سے غافل نہ ہوجاؤ۔

 

شانِ نزول:

یہ سورت سورۃ الکوثر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کے اندازِ بیاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا نزول بھی سورۃ القارعہ کی طرح انہی حالات میں ہوا ہے جب ایمان کی دعوت دینے کے بعد انسانی فکر و ذہن میں وہ شعور بیدار کیا جاتا تھا جس کے سبب بندہ خود اپنے نظریات اور اعمال کا احتساب کرنا شروع کردے۔

اس سورت میں اسی فکری تعلیم و تربیت کے بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں۔

اول: مال کی ہوس اور کثرت کی حرص اللّٰہ تعالیٰ سے غافل کردیتی ہے۔

دوم: اس غفلت کا انجام بہت برا ہے۔ اگر تمہیں اس کا یقینی علم حاصل ہوجائے تو تم گناہ کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ تمہیں اس کے ساتھ جہنم نظر آئے گی۔

سوم: دنیا کی نعمتوں کی کثرت کی وجہ سے اپنے رب سے غافل نہ بنو۔ قیامت میں تم سے ہر نعمت کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔

 

رسولِ معظم نے ارشاد فرمایا:

کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ روزانہ ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے؟ صحابہ نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! ہم میں سے ہر روز ایک ہزار آیات کون پڑھ سکتا ہے۔

آقا ومولیٰ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی بھی روزانہ سورۃ التکاثر نہیں پڑھ سکتا؟ یعنی یہ سورت تلاوت کرنا ایک ہزار آیات پڑھنے کے برابر ہے۔

 

اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ:

’’اَلْھٰی‘‘کا معنی ہے ’’زیادہ ضروری چیز سے غافل رکھنا‘‘۔

’’التَّکَاثُرُ‘‘ کے معنی ہیں، کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص۔

حضرت قتادہ نے اس کا معنی ’’تفاخر‘‘ بیان کیا ہے۔ لہٰذا تکاثر کے دو معنی ہوئے۔

 

اول: کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا۔

اور دوم: پھر اس چیز کے حصول کو فخر کا ذریعہ سمجھنا اور دوسروں پر فخر جتانا۔

سوال یہ ہے کہ یہ کثرت کس چیز میں ہے؟

جواب یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے نفس کو پسند ہو مثلاً مال و دولت، اولاد، جاہ و منصب، قوت و اقتدار، عالیشان بنگلے وغیرہ۔

چونکہ ان سب چیزوں میں مال و دولت کی حرص انسان کو سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

اور دوسری چیزوں کی طلب بھی مال و دولت کی حرص پوری کرنے کا ہی ذریعہ ہوتی ہے نیز سورۃ العادیات میں انسان کو مال کی شدید محبت میں مبتلا بتایا گیا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تکاثر کا مطلب ہے،’’کثرت کے ساتھ مال و دولت جمع کرنے کی حرص اور پھر اس کثرت پر فخر کرنا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up