Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 92 of 164

دنیا پرست اپنی زندگی کو عیش و عشرت سے بھرپور بنانے کے لیے مال و دولت کے حصول ہی کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں اور جب جائز و ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرلیتے ہیں تو فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

انجام یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیکیوں کا پَلہ ہلکا رہتا ہے اور وہ جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{ وَمَاظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَo فَاَصَابَھُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ}

’’اور اللّٰہ نے اُن پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ تو اُن کی بُری کمائیاں اُن پر پڑیں اور انہیں گھیر لیا اُس( عذاب) نے جس پر ہنستے تھے‘‘۔ ( پ14،نحل:33-34)

 

فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ:

جس کا نیکیوں کا پَلہ ہلکا ہوگا، اس کا مسکن اور ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔

یہاں ٹھکانے کے لیے’’ اُم ْ ‘‘ کا لفظ بیان ہوا ہے جس کے معنی ماں کے ہیں اور’’ہاوِیہ‘‘دوزخ کا ایک بہت گہرا گڑھا ہے۔

 

مفہوم یہ ہے کہ:

جس طرح ماں کی گود اس کے بچوں کا ٹھکانا ہوتی ہے اسی طرح نافرمان و بدکار لوگوں کے لیے دوزخ کے اس گہرے گڑھے کے سوا اور کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔

 

’’ اُم ْ ‘‘کا ایک معنی ’جڑ‘ اور’ گود‘ کا بھی ہے۔ اس لیے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے،

’’وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے‘‘۔

گویا کافروں کو سر کے بَل جہنم میں گرایا جائے گا اور وہ سب سے نچلے مقام یعنی اس کی جڑ تک پہنچ جائیں گے۔ اور ’’ہاویہ‘‘ان سب اہلِ دوزخ کو نیچا کر دکھائے گی کیونکہ اسے {نَارٌ حَامِیَۃٌ}فرمایا گیا ہے،  ’’ایک آگ شعلے مارتی‘‘۔ اس کے معنی ہیں، انتہائی درجہ کی حرارت والی آگ۔ گویا یہ اس قدر سخت گرم جگہ ہے کہ اس کے مقابلے میں باقی دوزخ کی گرمی کچھ نہیں۔

 

صحیح بخاری میں حدیث پاک ہے کہ:

اہلِ جہنم میں سب سے کم عذاب جس کو ہوگا اُسے آگ کے جوتے پہنادیے جائیں گے جن کی بناء پر اُس کا دماغ کھولتے ہوئے پانی کی طرح کھولنے لگے گا۔

اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ

بِجَاہِ حَبِیْبِکَ الْمُصْطَفٰی ﷺ

 

تفسیر سورۃ التکاثر سورۃ التکاثرمکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘

 

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ(۴) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ(۶) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ(۷) ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)

’’تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے، یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے، پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔ ہاں ہاں ! اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔ بیشک تم ضرور جہنم کو دیکھو گے، پھر بیشک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو گے۔ پھر بیشک ضرور اُس دن تم سے نعمتوں کی پُرسش ہوگی‘‘۔

کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ

Share:
keyboard_arrow_up