Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 91 of 164

احمد بن حارث رحمہ اللّٰہ کا قول ہے،

قیامت کے دن مسلمانوں کے تین گروہ ہونگے۔

ایک گروہ اعمالِ صالحہ میں غنی ہوگا۔

دوسرا گروہ اعمالِ صالحہ کم ہونے کی وجہ سے فقیر ہوگا۔

اور تیسرا گروہ اعمالِ صالحہ میں پہلے غنی ہوگا پھر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے بعد فقیر ہوجائے گا۔

 

سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

کوئی شخص رب تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے سَتّرگناہ لے کر جائے جو حقوقُ اللّٰہ میں سے ہوں، یہ آسان ہوگا بہ نسبت اس کے کہ وہ حقوقُ العباد میں سے ایک گناہ بھی لے کر بارگاہِ الہٰی میں حاضر ہو۔

 

حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما کا ارشاد ہے،

قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا۔ جن کی ایک نیکی بھی گناہوں سے زائد ہوگی وہ جنت میں جائیں گے اور جن کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہونگے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اور جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوئے ، انہیں اعراف میں رکھا جائے گا۔ ایسے لوگ پلِ صراط پر رُکے رہیں گے یہاں تک کہ جب ان کو کچھ گناہوں کی سزا دیدی جائے گی تو ان کی نیکیاں بھاری ہوجائیں گی اور پھر انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

 

علامہ سیوطی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ:

جس متقی کا کوئی گناہ نہ ہوگا اس کے اعمال بھی تولے جائیں گے تاکہ اس کی فضیلت اور شرف لوگوں پر ظاہر کر دیا جائے، اور یونہی کافر کے اعمال اسے ذلیل کرنے کے لیے تولے جائیں گے۔(مظہری)

یہ اعتراض بالکل لغو ہے کہ:

’’ اعمال کاوزن کیسے کیا جاسکتا ہے کیونکہ وزن تو مادّی چیز کا کیا جاتا ہے‘‘۔

جواب یہ ہے کہ جب تھرمامیٹر کے ذریعے جسم کی حرارت یعنی بخار کو ناپا جاسکتا ہے، لیبارٹری کے آلات کے ذریعے خون میں کولیسٹرول، شوگر، کیلشیم، پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر بہت ساری غیر مادّی چیزوں کا وزن کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ آلات مخلوق کے بنائے ہوئے ہیں تو پھر نیک و بد اعمال کا وزن کیوں نہیں کیا جا سکتا جبکہ خالق و مالک کی شان یہ ہے کہ:

 

{اِنَّمَآ اَمْرُہٗ ٓ اِذَآاَرَادَ شَیْئًااَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ}

’’اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے، ہوجا، وہ فوراً ہوجاتی ہے‘‘۔ (پ23،یس:82)

 

فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ:

’’جس کی نیکیوں کا پَلہ بھاری ہوا، وہ من پسند عیش میں ہوگا‘‘۔

پسند یدہ زندگی وہ ہے جس کو زندگی بسر کرنے والا دل سے پسند کرے۔ دنیا میں ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہر بات اس کی پسند کے مطابق ہو۔ لیکن یہاں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا کہ آدمی یہ کہہ سکے، ’’آج کے دن ہر بات میری مرضی اور پسند کے مطابق ہوئی ہے‘‘۔

وہ ایمان والے جودنیاوی زندگی میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کی مرضی پر اپنی مرضی کوقربان کر دیتے ہیں اور انکے احکامات پر عمل پیرا رہتے ہیں، وہ جنت کے حقدار ہو جاتے ہیں۔

رب تعالیٰ کی طرف سے اہلِ جنت کے لیے یہ انعام ہے کہ ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ جنت میں فرشتے ان سے کہیں گے،

 

{وَلَکُمْ فِیْھَا مَاتَشْتَھِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ o نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ} 

’’اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے، اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو، مہمانی بخشنے والے مہربان (رب) کی طرف سے‘‘۔ (پ24،حم السجدہ:31-32)

ایک طبقہ دنیا پرست غافل لوگوں کا ہے جو اس دنیا کی زندگی کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق گزارنا چاہتا ہے۔

 

آقا ومولیٰ کا ارشادِ گرامی ہے،

’’دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے‘‘۔

یعنی مومن زندگی کو اپنی خواہشات اور مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق گزارتا ہے جبکہ کافر اپنی زندگی اپنی خواہشات اور اپنی مرضی کے مطابق بسر کرتا ہے۔لہٰذا کافر کے لیے یہی جنت ہے،اور آخرت میں اس کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up