Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 90 of 164

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

{قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا oاَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًاo اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا}

’’تم فرماؤ!کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں؟ اُن کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی، اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (یعنی آخرت کے منکر رہے) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے۔ تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے‘‘۔ (پ16،کہف:103-105)

 

ان آیات سے معلوم ہوا کہ کافروں کے اچھے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا کیونکہ نیک اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان کا ہونا بنیادی شرط ہے۔

 

رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں مشرکوں سے فرمایا:

{ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ}

’’اگر تو نے اللّٰہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا‘‘۔ (پ23،زمر:65)

 

اور ایمان والوں سے فرمایا:

 

{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ}

’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اُس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے، اور ان کے حضوربات چِلاّ کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ‘‘۔ (پ26،حجرات:2)

 

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ شرک سے اعمال برباد ہوتے ہیں اور بارگاہِ رسالت کا ادب نہ کرنے سے بھی اعمال برباد ہوجاتے ہیں اور اس میں اضافی سزا یہ ہے کہ بے ادب کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ العیاذ باللّٰہ۔

 

علامہ قرطبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:آخرت میں لوگوں کے تین گروہ ہونگے۔

ایک متقین کا گروہ ہوگا: جس کے کبیرہ گناہ بالکل نہ ہونگے ۔ ان کی نیکیاں ایک نورانی پَلّے میں رکھی جائیں گی اور دوسرا تاریک پلّہ خالی ہوگا۔

دوسرا گروہ کافروں کا ہوگا: جن کے کفر اور بُرے اعمال تاریک پَلّے میں رکھے جائیں گے اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو دوسرے پَلے میں رکھ دی جائے گی مگر یہ پَلہ خالی پَلّے کی طرح ہلکا رہے گا۔

 

رسولِ معظم کا ارشاد ہے،

قیامت کے دن ایک بھاری بھرکم آدمی لایا جائے گا مگر اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وزن مچھر کے پر جتنا بھی نہ ہو گا۔ پھر حضور نے سورۃ الکہف کی آیت ۱۰۵ تلاوت فرمائی۔

 

تیسرا گروہ گناہگار مسلمانوں کا ہوگا۔

ان کی نیکیاں نورانی پَلّے میں رکھی جائیں گی اور برائیاں تاریک پَلے میں۔ اگر نیکیوں والا پَلہ بھاری رہا تو وہ جنت میں جائے گا اور اگر برائیوں والا پَلہ بھاری ہوا تو اس کا معاملہ رب تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہوگا۔

وہ چاہے گا تو بخش دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا۔ اگر دونوں پَلے برابر ہوئے تو اسے جنت و جہنم کی درمیانی جگہ’’اعراف‘‘ میں رکھا جائے گا بشرطیکہ اس کے گناہ حقوق ُ اللّٰہ میں سے ہوں۔

اگر اس کے گناہ حقوقُ العباد میں سے ہوئے تو اسی حساب سے اس کی نیکیاں حقدار کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیوں سے ادائیگی پوری نہ ہوئی تو اُس حقدار کے گناہ اِس پر ڈال دیے جائیں گے اور اِسے ان کے بدلے میں عذاب ہوگا۔ (مظہری)

Share:
keyboard_arrow_up