Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 89 of 164

قیامت میں ایمان اور تقوی کے سوا کوئی تعلق قائم نہ رہے گا۔

 

ارشاد ہوا:

 

{اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ}

’’گہرے دوست اُس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار‘‘۔ (پ25،زخرف:67)

 

کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ:

ارشاد ہوا: ’’اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی اُون‘‘۔

اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہاڑوں کے مختلف احوال بیان فرمائے ہیں۔

{وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَّھِیَ تَمُرُّ مَرَّالسَّحَابِ}

’’اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو، خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور (درحقیقت) وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال‘‘۔ (پ20،نمل:88)

 

پھر وہ پہاڑ ایک آن میں چُورا چُورا کردیے جائیں گے۔

 

ارشاد ہوا:

{وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً}

’’اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتہ چورا کردیے جائیں‘‘۔ (پ29،حاقہ:14)

 

جس طرح دُھنکی ہوئی اُون کا ریشہ ریشہ الگ ہوجاتا ہے اسی طرح پہاڑ بھی ذرہ ذرہ کر دیے جائیں گے۔

 

پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادہوا،

 

{وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُھَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ}

’’اور پہاڑوں میں راستے ہیں، سفید اور سرخ، رنگ رنگ کے اور کچھ کالے بھوجنگ(سیاہ کالے)‘‘۔(پ22،فاطر:27)

 

جب قیامت آئے گی تو یہ مختلف رنگوں کے پہاڑ چُورا چُورا ہو کر ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون ہوتی ہے اور جب یہ اجزاء ہوا میں اُڑیں گے تو یوں معلوم ہوگا جیسے دھنکی ہوئی رنگین روئی کے گالے اُڑ رہے ہیں۔

غیب بتانے والے آقا و مولیٰ ﷺ  نے جب قیامت کی خبریں دیں تو لوگوں نے پوچھا، کیا پہاڑوں جیسی مضبوط و بھاری چیز بھی تباہ ہو سکتی ہے؟

جواب میں ارشاد ہوا:

 

{وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَارَبِّیْ نَسْفًا}

’’اور (اے محبوب ا!) تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں، تم فرماؤ! انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کر کے اُڑا دے گا‘‘۔ (پ16،طہ:105، )

 

گویا قیامت ایسا عظیم حادثہ اور دل دہلانے والی آفت ہے کہ یہ عظیم الشان مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑ جائیں گے۔ تو پھر ذرا سوچیے کہ اُس دن انسان کس حال میں ہوگا۔

اس سورت میں قیامت کے احوال بیان فرما کر انسان کو نصیحت کی گئی ہے کہ صرف اس زندگی کو ہی پوری زندگی نہ سمجھ لینا۔ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھرتم بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگے اور جزا و سزا پاؤ گے۔

 

{اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ}

’’اللّٰہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا پھر اس کی طرف پھرو گے‘‘۔ (پ21،روم:11)

 

آیت ۶ تا ۸ کی تفسیر:

ارشاد ہوا: ’’تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں، اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں، وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے‘‘۔

مَوَازِینْ جمع ہے میزان کی جس کے معنی ترازو یا ترازو کے پَلّے کے ہیں۔

اب مفہوم یہ ہوگا کہ جس کے ترازو کے پَلّے بھاری ہونگے وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔ 

اگر موازین کا واحد ’’موزون‘‘ ہوجس کے معنی وزن کی ہوئی چیز کے ہیں ۔

تو اب مفہوم یہ ہوگا کہ:

جس کے نیک اعمال وزنی ہونگے اس کے لیے خوشخبری ہے۔ درحقیقت دونوں معانی کی اصل ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی جو اعمال لے کر بارگاہِ الہٰی میں آیا ہے وہ وزنی ہیں یا بے وزن؟

یا اس کی نیکیوں کا وزن اس کی برائیوں کے وزن سے زیادہ ہے یا کم؟ اعمال کے وزن کا تمام تر انحصار نیت کے اخلاص پر ہے۔ کئی لوگوں کے اعمال نامے میں ظاہری طور پر تو ایک جیسی نیکیاں لکھی ہوئی ہونگی لیکن رب تعالیٰ جو سینوں میں چھپی باتیں جانتا ہے، وہ ہر ایک کے اخلاص کے لحاظ سے اسے کم یا زیادہ یا بہت زیادہ اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up