Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 88 of 164

{یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُo تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُo قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌo اَبْصَارُھَا خَاشِعَۃٌ}

’’جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی، اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی، کتنے دل اُس دن دھڑکتے ہونگے، آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے‘‘۔ (پ30،نازعات:6-7)

 

قیامت سے متعلقہ تمام آیاتِ مبارکہ کا مطالعہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ اس سورت میں ان آیات کا گویا ایک طرح سے خلاصہ بیان فرما دیا گیا ہے اور انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اتنی ہولناک مصیبت اور دل دہلانے والی آفت سے بے پرواہ اور غافل نہ ہوجانا۔

جیسے اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ آج رات کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے یا ہولناک زلزلہ آنے والا ہے تو دہشت اور خوف کی وجہ سے انسان کی نیند اُڑ جائے گی، دل لرزنے لگے گا اور ہر لمحہ کھٹکا رہے گا کہ بس اب زلزلہ آیا، اب موت آئی۔

پس انسان کو چاہیے کہ اس دن کے آنے سے قبل اس کے لیے ایسی تیاری کر لے جس کے باعث وہ اُن خوش نصیبوں میں سے ہو جائے جنہیں یہ بشارت دی گئی ہے،

 

{مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْھَا وَھُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ}

’’جو نیکی لائے، اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے، اور ان کو اُس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے‘‘۔ (پ20،نمل:89)

 

کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ :

ارشاد ہوا: ’’جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے‘‘۔

(1)۔ اس آیت میں انسانوں کوپھیلے ہوئے پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح برسات میں کثیر تعداد میں پروانے اور پتنگے نکل آتے ہیں اسی طرح قیامت میں جب انسان قبروں سے اُٹھیں گے تو پوری زمین لاتعداد انسانوں سے بھر جائے گی۔

{یَّوْمَ یُنْفَحُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا}

’’جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں‘‘۔ (پ30،نبا:18)

 

(2)۔ پروانے نہایت کمزور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہیں، ایسا ہی حال قیامت کے دن انسانوں کا بھی ہوگا۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

{وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی}

’’اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور (حالانکہ) وہ نشہ میں نہ ہونگے‘‘۔ (پ17،حج:2)

 

 

(3)۔ پروانے ایک سمت میں نہیں اُڑتے بلکہ حیران و مضطرب، منتشر انداز میں اُڑتے ہیں اسی طرح قیامت میں لوگ حیران و پریشان اٹھیں گے اور گھبراہٹ و بدحواسی میں اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہوں گے۔

 

ارشاد ہوا:

{یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَo خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّۃٌ}

’’جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے گویا وہ نشانوں کی طرف لپک رہے ہیں، آنکھیں نیچی کیے ہوئے، اُن پر ذلت سوار‘‘۔(پ29،معارج:43-44)

 

{یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّo کَلاَّ لَاوَزَرَ}

’’اُس دن آدمی کہے گا، کدھر بھاگ کر جاؤں؟ ہرگز نہیں! کوئی پناہ نہیں‘‘۔ ( پ29،قیامہ:10-11)

 

(4)۔ پروانے ایک دوسرے سے لاتعلق اور بے پرواہ ہوتے ہیں، قیامت میں انسانوں کا بھی یہی معاملہ ہوگا۔ نہ کوئی کسی کا حال پوچھے گا نہ ہی کوئی کسی کی پرواہ کرے گا۔

 

{ وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاo یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىٕذٍۭ بِبَنِیْہِ o وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ oوَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُئْوِیْہِ oوَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ oکَلاَّ }

’’اور(اُس دن) کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا، ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے۔ مجرم آرزو کرے گا، کاش اُس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے، اور اپنی جورو (بیوی) اور اپنا بھائی، اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے، اور جتنے زمین میں ہیں سب، پھر یہ بدلہ دینا اسے بچا لے؟ ہرگز نہیں‘‘۔ (پ29،معارج:10-15 )

Share:
keyboard_arrow_up