اَلطَّآمَّۃُ:
عظیم مصیبت جو سب پر حاوی ہو، سب سے بڑاعالم گیر حادثہ۔
اَلْغَاشِیَۃُ:
وہ شدید مصیبت جو سب پر چھا جائے، وہ عظیم حادثہ جو سب کو گھیرلے۔
کسی تمہید کے بغیر اس سورت کا آغاز اس لفظ یعنی ’’اَلْقَارِعَۃُ ‘‘ سے کیا گیا، اور پھر سوال کیا گیا، مَا الْقَارِعَۃُ ۔ دل دہلانے والا حادثہ یا دہشت ناک کڑک یا کھڑکھڑانے والی ہولناک چیز کیا ہے؟
پھر فرمایا گیا،
یہ اتنا بڑا ہولناک حادثہ ہے کہ اس کی حقیقت کو سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے کوئی بتا ہی نہیں سکتا۔ یہ قرآن کریم کی جامعیت کی ایک مثال ہے کہ ایسا عظیم الشان مختصر لفظ فرمایا گیا، جس میں خوف بھی ہے اور دہشت بھی، سخت دھمک بھی ہے اور دل دہلانے والی آواز بھی، المناک حادثے کی خبر بھی ہے اور ہیبت و عظمت بھی۔
قیامت کی ہولناک سختی کو اُبھارنے کے لیے تین بار یہ لفظ فرمایا گیا اور اس لفظ کے ذریعے گویا قیامت کی منظر کشی کر دی گئی ہے۔ یہ نام رکھنے کی متعدد وجوہ ہیں۔
کسی ہولناک حادثہ کے تین اہم اجزاء ہوتے ہیں۔
اول: تصادم،
دوم : سخت کڑی آواز ،
اور سوم: دہشت و ہیبت۔
قیامت کو القارعۃ اس لیے کہا گیا کہ یہ تینوں اجزاء قیامت میں انتہائی درجہ پر ہونگے۔ تصادم ایسا کہ ستارے اور سیارے پاش پاش ہوجائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ۔ سخت کڑی آواز ایسی کہ جسے سن کر لوگ مرجائیں اور دہشت ایسی کہ سب کو اپنی اپنی فکر ہو۔
ارشاد ہوا،
{لِکُلٍّ امْرِئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ}
’’ان میں سے ہر ایک کو اُس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے کافی ہے‘‘۔ (پ30،عبس:37)
قیامت کے دن کے حالات اور صور پھونکنے کے اثرات جو قرآن عظیم میں بیان ہوئے ہیں ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہولناک زلزلہ اور ہیبت ناک حادثہ کس قدر دل دہلانے والا ہوگا جسے اللّٰہ تعالیٰ نے ’’ اَلْقَارِعَۃ‘‘ کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔
یہ نام رکھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ قیامت اچانک آئے گی۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مگن ہونگے، وہ ہولناک مصیبت اچانک آ جائے گی۔
{بَلْ تَاْتِیْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ}
’’بلکہ وہ ان پر اچانک آ پڑے گی تو انہیں بے حواس کر دے گی پھر نہ وہ اسے پھیر سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی‘‘۔(پ17،انبیاء:40)
دوسری وجہ یہ ہے کہ:
جب قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا تو ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دے گی جو دل دہلا دے گی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{فَاِذَا جَآءَ تِ الصَّآخَّۃُ}
’’پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ‘‘۔ (پ30،عبس:33)
پہلی بار صُور پھونکا جائے گا تو سب بے ہوش ہو جائیں گے۔
پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ مر جائیں گے۔
پھر تیسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ (تفسیر کبیر)
رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،
{اِنْ کَانَتْ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ}
’’وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہو جائیں گے‘‘۔ (پ23،یس:53)
تیسری وجہ یہ ہے کہ:
جب قیامت آئے گی تو سورج چاند ستارے آسمان وغیرہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور ایک ہولناک آواز پیدا ہوگی۔
ارشاد ِ ربانی ہے،
{اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْo وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْo وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ o وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ o عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ}
’’جب آسمان پھٹ جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہا دیے جائیں اور جب قبریں کُریدی جائیں، ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے‘‘۔ (پ30،انفطار:6-7)

