تفسیر سورۃ القارعۃ سورۃ القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں دس آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۶) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۸) فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ(۹) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ(۱۰) نَارٌ حَامِیَةٌ۠(۱۱)
’’دل دہلانے والی! کیا (ہے) وہ دل دہلانے والی؟ اور تو نے کیا جانا کیا ہے دل دہلانے والی؟ جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے، اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی اُون۔ تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں، اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں، وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے۔ اور تو نے کیا جانا کیا ہے نیچا دکھانے والی، ایک آگ شعلے مارتی‘ ‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
اَلْقَارِعَۃُ مَا الْقَارِعَۃُ
دل دہلانے والی کیا (ہے) دل دہلانے والی
وَ مَا اَدْرٰی کَ مَا الْقَارِعَۃُ
اور کیا جانا تجھے ؍ تو نے کیا (ہے) کھڑکھڑانے والی
یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَ الْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ
جس دن ہوں گے لوگ کی طرح پروانوں بکھرے ہوئے
وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَ الْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ
اور ہونگے پہاڑ کی طرح اُون دُھنکی ہوئی
فَ اَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُ ہٗ
پس بہرحال وہ بھاری ہوئے پَلّے جس(کے)
فَ ھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ
تو وہ میں عیش پسندیدہ
وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُ ہٗ
اور بہرحال وہ ہلکے ہونگے پَلّے جس کے
فَ اُمُّ ہٗ ھَاوِیَۃٌ
پس ٹھکانا اُس (کا) نیچا دکھانے والی
وَ مَا اَدْرٰی کَ مَا ھِیَ ہْ نَارٌ حَامِیَۃٌ
اور کیا جانا تو نے کیا ہے وہ - آگ (ہے) شعلے مارتی
ربط ومناسبت:
سورۃ الزلزال میں اعمال یعنی ذرہ بھر نیکی اور ذرہ بھر بدی کا ذکر تھا، سورۃ العادیات میں اعمال کے ساتھ دلوں میں چھپی باتوں یعنی ناشکری اور مال کی اندھی محبت کا ذکر کر کے انسان کو قبر کی منزل یاد دلائی گئی، اب سورۃ القارعہ میں نیتوں اور اعمال کو جمع کر کے بتایا جارہا ہے کہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے اور اس تول کے نتیجے میں کس کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔
سورۃ العادیات میں مُردوں کے قبروں سے اٹھائے جانے اور سینوں میں چھپی باتیں کھول دینے کا ذکر تھا جو کہ قیامت سے متعلقہ امور میں سے ہیں، اس سورت میں قیامت میں پیش آنے والے دیگر ہولناک اُمور بیان فرمائے گئے ہیں۔
گویا دونوں سورتوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں آخرت کی فکر پیدا کرتی ہیں۔
اَلْقَارِعَۃُ مَا الْقَارِعَۃُ:
سورۃ العادیات کے اختتام پر فرمایا گیا،’’بیشک اُن کے رب کو اُس دن اُن کی سب خبر ہے‘‘۔
اب سوال پیدا ہوا کہ وہ دن کیسا ہوگا؟
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ وہ دن دھماکہ خیز ہوگا۔
’’قارِعہ‘‘ سے مراد نہایت ہولناک حادثہ یا سخت صدمہ دینے والی مصیبت یا دل دہلانے والی چیز ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَۃِ}
’’ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا‘‘۔(پ29،حاقہ:4)
{وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ }
’’اور کافروں کو ہمیشہ ان ایذا کے کیے پر سخت دھمک(مصیبت) پہنچتی رہے گی‘‘۔(پ13،رعد:31)
چونکہ قیامت بھی ہولناک حادثہ، ناگہانی مصیبت اور دل دہلانے والی آفت ہے اس لیے قیامت کا ایک نام ’’اَلْقَارِعَۃ‘‘ ہے۔
قرآن مجید میں مذکور قیامت کے چند نام ملاحظہ فرمائیں جو قیامت کے کسی نہ کسی اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اَلْحَآقَّۃُ :
وہ حق ہونے والی یعنی ضرور واقع ہونے والی،ناقابلِ انکار حقیقت۔
اَلصَّآخَّۃُ:
کان پھاڑنے والی چنگھاڑ، سخت اورکڑی آواز جو کان کوبہرا کردے۔

