Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 85 of 164

ایک اور مقام پر یوں ارشاد ہوا:

{یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُo فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلَا نَاصِرٍ}

’’جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار‘‘۔ (پ30،طارق:9-10)

یہاں دل کے افعال کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ جسم کے افعال دل کے افعال کے تابع ہیں کیونکہ پہلے دل میں کسی بات کا خیال وارادہ پیدا ہوتا ہے بعد میں ظاہری اعضاء اسے انجام دیتے ہیں۔ دنیا کی کسی عدالت میں کسی انسان کے دل میں پوشیدہ باتوں کو جانا اور جانچا نہیں جا سکتا۔

صرف رب ذوالجلال ہی کی شان ہے کہ وہ:

{ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْر}

یعنی سینوں میں چھپی باتیں جانتا ہے۔ (پ29،ملک: 13)

 

{ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃ}

یعنی ہر نہاں وعیاں کا جاننے والا ہے۔ (پ18،مومنون:92)

 

{ عَلاَّم ُ الْغُیُوْب}

یعنی سب غیبوں کا جاننے والا ہے۔ (پ7،مائدہ:109)

 

{یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر}

یعنی جانتا ہے چوری چھُپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (پ24،مومن:19)

 

رب تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے،

{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ o}

’’اور بیشک ہم  نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ‘‘۔ (پ26،ق:16)

اگرچہ دو فرشتے آدمی کے اچھے بُرے اعمال لکھتے ہیں تاکہ قیامت میں ہر کسی کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں دیا جائے مگر اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں کے لکھنے سے بے نیاز ہے۔

سورت کی آخری آیت میں ہے کہ اُس دن اللّٰہ تعالیٰ کو اُن کی سب خبر ہے،اس کا کیا مطلب ہے؟ حالانکہ اُسے تو ہر لمحہ ہر وقت ہر مخلوق کے ہر حال کی خبر ہے۔

جواب یہ ہے کہ: اللّٰہ تعالیٰ کو تو ہر وقت تمام مخلوق کے تمام احوال کی خبر ہے لیکن قیامت کے دن نامۂ اعمال اور سینوں میں چھپی باتیں ظاہر ہونے پر تمام لوگوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ رب تعالیٰ دنیا کی زندگی میں بھی اُن کے تمام احوال سے باخبر تھا اور آج بھی پوری طرح باخبر ہے جو کہ جزا و سزا کا دن ہے لہٰذا کسی کو انکار کی گنجائش نہیں رہے گی۔

اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی، رسول کریم کی اطاعت اور موت و قبر سے غافل ناشکرے لوگوں کو دعوتِ فکر و عمل دی گئی ہے کہ آج وہ پختہ یقین کرلیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، ان سب کاموں سے اللّٰہ تعالیٰ باخبر ہے۔

بلکہ جو کچھ ہمارے دلوں میں ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو بھی وہ ہمارے ہر ہر ذرے کو جمع کر کے ہمیں زندہ فرمائے گا اور ہمارے اعمال کو ظاہر فرما دے گا۔اُس دن ہمیں اپنے ہر ہر عمل کے متعلق بارگاہِ الٰہی میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔

یہ احساس اگر آج ہمارے دل و دماغ میں راسخ ہوجائے تو ہم ناشکری، غفلت اور حُبِ مال کے امراض سے شِفایاب ہوکر رب تعالیٰ کے اطاعت گزار بندے اور اس کے محبوب رسول کے وفادار غلام بن سکتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up