Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 84 of 164

بخل کی مذمت میں آقا و مولیٰ کا ارشاد گرامی ہے،

بخیل اللّٰہ تعالیٰ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے اور دوزخ سے قریب ہے۔ جبکہ جاہل سخی رب تعالیٰ کے نزدیک عبادت گزار بخیل سے کہیں بہتر ہے۔

 

ایک اور حدیث پاک میں فرمایا،

ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ایک فرشتہ دعا کرتا ہے، اے اللّٰہ! خرچ کرنے والے کو خرچ کیے ہوئے مال کی جزا عطا فرما۔ دوسرا فرشتہ دعا کرتا ہے، اے اللّٰہ! بخیل کے مال کو ضائع فرما۔

مال سے مراد صرف روپیہ یا سونا چاندی نہیں بلکہ اس سے دنیا کا سارا سازو سامان مراد ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے،

 

{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِالْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا}

’’لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت، عورتیں اور بیٹے، اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر، اور نشان کیے ہوئے گھوڑے،اور چوپائے اور کھیتی، یہ جیتی دنیا کی پونجی(یعنی سامان) ہے ‘‘۔ (پ3،ال عمران:14)

یہ بات قابلِ غور ہے کہ ان تمام چیزوں سے صرف دنیا کی زندگی میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ راہِ خدا میں خرچ کی ہوئی چیز کا آخرت میں اجر ملتا ہے تو پھر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مال کو راہِ خدا میں خرچ کیا جائے تاکہ آخرت میں بھی اس کا نفع ملے۔

مال و متاع کی محبت کو عموماً دنیا کی محبت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

حضور کا ارشاد ہے،

دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ دنیاوی مال و متاع بذاتِ خود کوئی قابلِ نفرت و ملامت چیز نہیں ہے۔ رزقِ حلال کمانا عین عبادت ہے کیونکہ اس عالمِ اسباب میں انسانی ضروریات کا پورا ہونا مال ہی پر موقوف ہے بلکہ تمام عبادات کے قبول ہونے کا دارومدار ہی حلال رزق پر ہے۔

مذکورہ حدیث شریف کے مطابق ہر برائی کا آغاز دنیا کی محبت سے ہوتا ہے اور دنیا نام ہے اللّٰہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزوں کا۔ لہٰذا جائز طریقے سے دنیا کی نعمتیں استعمال کی جائیں اور رب کریم کا عطا کردہ مال اس کی رضا کے لیے اسی کی راہ میں خرچ کیا جائے لیکن دنیا اور اس کے مال و متاع کی محبت کو ہر گز دل میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

 

صوفیا فرماتے ہیں:

’’دنیا رحمت ہے جب تک اس کی محبت دل سے باہر ہو، جیسے سمندر میں کشتی چلے اور پانی کشتی سے باہر رہے تو رحمت ہے ورنہ تباہی و بربادی‘‘۔

پس انسان کے لیے مال و متاع کی ایسی محبت منع ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے غفلت کا سبب بنے۔

جب انسان مال و دولت کی ناجائز محبت میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسروں کا حق چھیننے میں عار محسوس نہیں کرتا اور حلال و حرام کی تمیز کھو دیتا ہے۔اسی بناء پر دنیا میں اکثر جھگڑے اور فسادات ہو رہے ہیں اور بھائی بھائی کا دشمن بن رہا ہے۔

اسی لیے ایک حدیث میں اِس امت کا فتنہ مال کو قرار دیا گیا ہے۔ مال کی ناجائز محبت اور ناشکری کا علاج اگلی آیات میں بیان ہورہا ہے۔ آیت ۹ تا آیت ۱۱: ان آیات میں نا شکرے اور دنیا پرست انسان کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا جا رہا ہے کہ’’

اے غافل انسان! تُو موت سے غافل ہے مگر موت تجھ سے غافل نہیں ہے۔ تُو اُس وقت کو یاد کر جب تجھے قبر سے نکال کر اپنے خالق و مالک کے حضور کھڑا کر دیا جائے گا اور تجھے اپنے ہر ہر عمل کا جواب دینا ہوگا۔ اُس دن صرف اعمال ہی نہیں بلکہ تیرے سینے میں چھپی باتیں بھی کھول دی جائیں گی۔ تیرے اعمال کے محرکات اور نیتیں بھی پوشیدہ نہ رہ سکیں گی۔ گمراہی والے عقائد ہوں یا گندے خیالات، بغض و حسد کے جذبات ہوں یا حرص و تکبر کے احساسات، سب کچھ ظاہر کر دیا جائے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up