مثلاً ارشاد ہوا:
{وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا}
’’اور جب اس کو مال ملے تو روک رکھنے والا ہے‘‘۔ (پ29،معارج:21)
قرآن عظیم میں دوسری جگہ فرمایا گیا،
{کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَنِ ا الْوَصِیَّۃُ }
’’تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے، اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے‘‘۔ (پ2،بقرہ:180)
مال کے لیے خیر کا لفظ استعمال ہونے میں ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اور اپنی ذات کی بھلائی کو ہر چیز پر فوقیت دیتا ہے۔
وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری خیر یعنی بھلائی مال و متاع میں ہے اس لیے مال کو خیر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
انسان جب مال و متاع کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور مال و دولت کی بیجا محبت میں مبتلا ہوکر وہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود غرضی، لالچ اور بخل کی آفتوں کا شکار ہو کر اپنے رب عزَّوَجل اور اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے غافل اور نا شکرا بن جاتا ہے۔
گھوڑوں کی مثال پر غور کیجئے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گھوڑے تو جان کی بازی لگا کر تیروں اور نیزوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرتے ہیں، وہ سب اپنے مالک کے حوالے کر دیتے ہیں اور اپنے کسی حق کا مطالبہ نہیں کرتے۔
جو کچھ غذا مالک ان کے آگے ڈال دے اسی پر صابر و شاکر رہتے ہیں۔لیکن انسان کا یہ حال ہے کہ جو کچھ اپنے رب کے فضل و کرم سے پاتا ہے اس کو رب تعالیٰ کے حکم سے اس کی راہ میں خرچ کرنے پر تیار نہیں ہوتا بلکہ اس مال پر اپنے مالکِ حقیقی کا کوئی حق تسلیم ہی نہیں کرتا۔
اگر کوئی نصیحت کرے تو کہتا ہے، یہ تو میں نے اپنی محنت و قابلیت سے حاصل کیا ہے۔
قرآن مجید نے قارون کا یہ قول بیان کیا ہے،
{ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ}
’’یہ (مال) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے‘‘۔ (پ20،قصص:78)
قرآن کریم نے سچے مومنوں کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ وہ سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرتے ہیں اس لیے وہ ہر چیز کی محبت پر رب تعالیٰ کی محبت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ارشاد ہوا:
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ}
’’اور ایمان والوں کو اللّٰہ کے برابر کسی کی محبت نہیں‘‘۔(پ2،بقرہ:165)
جبکہ ناشکرے اور احسان فراموش لوگ ، مال عطا فرمانے والے رب کریم سے زیادہ اپنے مال سے محبت کرتے ہیں۔ انسان کو مال سے بہت زیادہ محبت ہے۔
اس کے متعلق آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا:
اگر آدمی کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا۔آدمی کے پیٹ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو کوئی توبہ کرے ، اللّٰہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔
سرکارِ دوعالم ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے،
حرص و طمع سے بچو کیونکہ پہلی قومیں حرص و لالچ ہی کے باعث تباہ ہوئیں۔ لالچ نے انہیں بخل کی ترغیب دی، انہوں نے بخل کیا۔ اسی حرص نے انہیں قطع رحمی پر مائل کیا اور انہوں نے قطع رحمی اختیار کی۔ اور اسی حرص نے انہیں بدکاری پر اُبھارا اور انہوں نے بدکاریاں کیں۔ (ابوداؤد)
خلاصہ یہ ہے کہ:
مال کی ناروا محبت اور حرص و لالچ کی وجہ سے انسان کو دوسروں کے حقوق غصب کرنے اور ناجائز طور پر مال حاصل کرنے میں کوئی عار نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ بخل کرتا ہے اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے میں تنگی اور الجھن محسوس کرتا ہے۔ جب وہ مال کے لالچ کی وجہ سے فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے تو پھر اسے کوئی اور گناہ کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔

