مقامِ غور ہے کہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مجازی مالک کا حق سمجھے اور اس کی اطاعت کرے ،اور انسان اشرفُ المخلوقات ہو کر بھی اپنے حقیقی مالک کا حق نہ سمجھے اور اس کی اطاعت نہ کرے تو یہ جانور سے بھی نچلے درجے میں چلا گیا۔
ایسا انسان اپنے عمل سے گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کا نا شکرا اور احسان فراموش ہے۔
اپنے مالکِ حقیقی کے حقِ بندگی سے غافل انسانوں کے متعلق ارشادِ باری ہے:
{لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ}
’’وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں، اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں، اور وہ کان جن سے سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، وہی غفلت میں پڑے ہیں‘‘۔ (پ10،اعراف:179)
کیونکہ چو پایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے جبکہ کافر جہنم کی راہ چل کر اپنا ضرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا۔
صدرُ الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،
چوپائے بھی اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں اور جو انہیں کھانے کو دے، اس کے مطیع رہتے ہیں اور احسان کرنے والے کو پہچانتے ہیں اور تکلیف دینے والے سے گھبراتے ہیں۔ یہ کفار ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ نہ رب کی اطاعت کرتے ہیں، نہ اس کے احسان کو پہچانتے ہیں نہ شیطان جیسے دشمن کی ضرر رسانی کو سمجھتے ہیں، نہ ثواب جیسی عظیم نفع والی چیز کے طالب ہیں اور نہ عذاب جیسی سخت مضرمہلک چیز سے بچتے ہیں‘‘۔
اگر کلمہ پڑھنے کے باوجود مسلمان بھی کافروں جیسی غفلت والی زندگی گزارے اور ان کے طور طریقے اپنا کر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو فراموش کر دے تو یہ کس قدر احسان فراموشی ہے۔
گویا انسان اپنے اعمال کی بناء پر اس زندگی میں خود اپنے خلاف ناشکرا ہونے کی گواہی دے رہا ہے اور قیامت میں بھی یہ اپنے خلاف گواہی دے گا۔
قرآن مجید میں ہے کہ اُس دن مجرم اپنے ناشکرے پن کا یوں اقرار کریں گے،
{لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَo وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَo وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَo وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ o حَتّیٰٓ اَتٰنَا الْیَقِیْنُ}
’’ہم نماز نہ پڑھتے تھے ،اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے، اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے ،اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی‘‘۔ (پ29،مدثر:43-47)
قرآن عظیم میں ایک اور مقام پر فرمایا گیا،
{یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَo بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃ ٌo وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ}
’’اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جَتا دیا جائے گا بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے اور اگراس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لاڈالے‘‘۔ (پ29،قیامہ:13-15)
یعنی قیامت کے دن بھی اگر انسان اپنی عادت و طبیعت کی وجہ سے گناہوں پر حیلے بہانے تراشے مگر وہ اپنے دل میں خوب جانتا ہوگا کہ وہ جھوٹا ہے کیونکہ وہ خود اپنے احوال پر گواہ ہوگا۔
وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ:
تیسری بات جس پر قسم ارشاد فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ:
’’بیشک وہ مال کی محبت میں شدید ہے‘‘۔
یہاں مال کے لیے ’’خیر ‘‘کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی ’’خیر‘‘ کے لفظ سے مال مراد لیا گیا ہے۔

