اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ:
گھوڑے کی وفاداری دیکھئے کہ وہ اپنے مالک کے اشارے پر میدانِ جنگ میں کتنی مشکل خدمات انجام دیتا ہے۔ دشمنوں کی تلواریں، خون آلود زخمی اور لاشیں دیکھ کر بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور وفاداری نبھاتا ہے۔
حالانکہ انسان گھوڑے کا خالق و مالک اور رازق نہیں ہے۔ اس کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے رزق کو گھوڑے تک پہنچاتا ہے۔ لیکن گھوڑا اس کے اتنے سے احسان کو اس قدر مانتا اور پہچانتا ہے کہ وہ اس مالک کے ادنیٰ سے اشارے پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور مصائب و مشکلات سے منہ نہیں موڑتا۔
جبکہ اس کے مقابل انسان کو دیکھئے کہ جس کا خالق و مالک اللّٰہ تعالیٰ ہے جس نے اسے ماں کے پیٹ میں غذا دی، پھر اس کی پیدائش سے لیکر ساری عمر اسے رزق دیا، اسے کثیر نعمتیں عطا کیں اوراس پر بیشمار احسانات فرمائے۔
ارشاد ہوا:
{وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا}
’’اور اگر اللّٰہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکوگے‘‘۔(پ14،نحل:18)
اس قدر کثیر نعمتیں پانے کے باوجود انسان اپنے رب کا نافرمان اور نا شکرا رہتا ہے۔ وہ مصائب و مشکلات کا شکوہ تو کرتا رہتا ہے مگر اس کی نعمتوں کا شکر گذار نہیں ہوتا۔
ایسے شخص کو ’’کَنُوْد‘‘کہتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے رب کا احسان فراموش اور نا شکرا رہتا ہے بلکہ اپنے رب کے احکامات اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے منہ موڑ کر شیطان اور نفس کی غلامی و بندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ:
’’کَنُوْد‘‘ کے معنی ہیں ’’بہت ناشکرا‘‘۔
اس کے ایک معنی نافرمان کے ہیں اور ایک معنی کنجوس کے بھی ہیں۔
ایک اور قول یہ ہے کہ:
’’کَنُوْد‘‘ وہ شخص ہے جو خدا کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرے۔
ایک قول یہ ہے کہ:
وہ کینہ پرور اور حسد کرنے والا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ:
وہ خود غرض اور کمینہ ہے۔
اگر غور کیا جائے تو یہ تمام معانی و مفاہیم ایک دوسرے کے خلاف نہیں کیونکہ ناشکری مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔
رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا حق ادا کیا جائے، ان نعمتوں اور صلاحیتوں کو رب کریم کی رضا کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کے بندوں کو ان صلاحیتوں سے نفع پہنچایا جائے۔
وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ:
رب تعالیٰ نے جن تین باتوں پر قسم ارشاد فرمائی ان میں سے ایک یہ بیان ہوئی کہ بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ
’’بیشک وہ اس پر خود گواہ ہے‘‘۔
ایک قول یہ ہے کہ:
’’اِنَّہٗ‘‘ کی ضمیر رب تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے اس لیے مفہوم یہ ہوگا کہ رب تعالیٰ بندوں کے ناشکرے ہونے پر گواہ ہے۔
اور دوسرا قول یہ ہے کہ:
انسان اپنے ناشکرے ہونے پر خود گواہ ہے۔
اگر اس سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ربط دیکھا جائے تو مفہوم یہ ہوگا، گھوڑے اپنے مالک کی اطاعت میں اس قدر مشقت اُٹھائیں اور انسان اپنے خالق و مالک کا نافرمان رہے؟
ایسے نافرمان انسان کا پورا وجود اس بات کا گواہ ہے کہ وہ اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے۔
انسان اس بے زبان جانور کی جاں نثاریاں دیکھتا ہے، اس کی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ عقل و شعورکا پیکر، اپنے رب کا بندہ اور رسول کریم ﷺ کا غلام و اُمتی ہے۔ اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت اور آقا و مولیٰ ﷺ کی فرمانبرداری میں مستعد اور سرگرمِ عمل رہے۔

