Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 80 of 164

اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والے اس قدر پسند ہیں کہ اُس نے اُن کی سواری کے جانوروں کی قسم ارشاد فرمائی۔

یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ قسم کا بنیادی مقصد مخاطب کو اس بات کا یقین دلانا ہوتا ہے کہ جس بات پر قسم اُٹھائی جا رہی ہے، وہ سچ اور یقینی ہے۔

قرآن مجید میں جہاں بھی قسمیں ارشاد فرمائی گئی ہیں وہاں عموماً دو صورتیں ہوتی ہیں۔

ایک یہ کہ: محبوب اور اس سے متعلق چیزوں کی قسم یا دینی شعائر کی قسم ارشاد فرمائی گئی

مثلاً:

لَعَمْرُکَ (اے محبوب!تمہاری زندگی کی قسم)،

وَقِیْلِہٖ (تمہارے قول کی قسم)،

وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْد  (قرآن مجید کی قسم)،

وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْن (اس امان والے شہر کی قسم) ،

وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا  (قسم ان فرشتوں کی کہ باقاعدہ صف باندھیں) وغیرہ۔

ان لوگوں یا چیزوں کی قسم ارشاد فرمانے میں ان کی محبوبیت اور تقدیس و عظمت ملحوظ ہوتی ہے۔ اگرچہ بعدمیں جو مضمون بیان ہوتا ہے، اُس کا اُن بیان کردہ قَسموں سے گہرا تعلق بھی ہوتا ہے۔

 

دوسری صورت یہ ہے کہ:

قرآن کریم میں کائنات کی مختلف چیزوں کی قسمیں ارشاد فرمائی گئی ہیں

مثلاً:

وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا (سورج اور اس کی روشنی کی قسم)،

وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا (اور چاند کی قسم جب اسکے پیچھے آئے)،

وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی  (رات کی قسم جب چھائے)،

وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی (اور دن کی قسم جب چمکے)،

وَ الصُّبْحِ  (صبح کی قسم)،

وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ  (آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی) وغیرہ۔

ان چیزوں کی قسم ارشاد فرمانے میں ان کی عظمت و محبوبیت کا اظہار مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان مظاہرِ قدرت کو بطور دلیل و گواہ کے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ انسان قدرتِ الٰہیہ کی ان نشانیوں کو محض سرسری طور پر نہ دیکھے بلکہ ان کی تخلیق میں غور و فکر کرے۔

دراصل قرآن کریم بیک وقت عالم کو بھی تعلیم دیتا ہے اور جاہل کو بھی۔ چھوٹے کو بھی اور بڑے کو بھی۔اوریہ قرآن عظیم کا معجزہ ہے کہ وہ روزمرہ کے مشاہدے کی چیزوں کے ذریعے انسان کو اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر بندہ ان مظاہرِ قدرت کی حکمت کو سمجھ لے تو پھر اُٹھتے بیٹھتے، صبح و شام، سورج و چاند اور پہاڑ و سمندر دیکھ کر اسے رب کریم کی صفات کے جلوے نظر آنے لگتے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی پانچ آیات میں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی جو صفات بیان ہوئی ہیں،اُن کا آگے بیان کردہ مضمون سے کیاربط و تعلق ہے؟

 

ان آیات میں ارشاد ہوا:

’’قسم ہے اُن کی جو تیز دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے آواز نکلتی ہے۔ جب وہ پتھریلی زمین سے سُم ٹکراتے ہیں تو ان کی ٹاپوں پر لگے لوہے کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔ پھر وہ گردوغبار اڑاتے ہوئے عین صبح کے وقت دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں اور انہیں تاراج کرتے ہیں‘‘۔

 

قسم کے بعد گھوڑے کی ان صفات کو بیان فرما کر رب تعالیٰ نے فرمایا:

’’بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے‘‘۔

گویا گھوڑے کی مذکورہ صفات بیان فرما کر رب تعالیٰ نے انسان کوشکر گذار بننے کی تلقین فرمائی ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے بہت اطاعت گزار ہوتے ہیں کہ اس کے اشارے پر تیز دوڑتے ہیں، اس قدر تیز کہ ہانپنے کی وجہ سے ان کے سینوں سے آواز نکلنے لگتی ہے۔ ان کا دوڑنا اتنی مشقت سے ہوتا ہے کہ انکے سُموں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور صبح کے وقت جبکہ اوس کی وجہ سے مٹی جمی ہوتی ہے، ان کی ٹاپوں سے گرد و غبار اڑتا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up